امریکی پابندیوں کے اثرات کی وجہ سے خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث قیمتوں میں ہفتہ وار اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق، خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ مسلسل چوتھی ہفتہ وار اضافے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ روسی توانائی کی تجارت پر تازہ ترین امریکی پابندیوں نے سپلائی کو متاثر کیا اور اسپاٹ ٹریڈ کی قیمتوں اور شپنگ کی شرحوں میں اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق، برینٹ کروڈ فیوچر 44 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافے سے 81.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچا، جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 62 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے سے 79.3 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اس ہفتے اب تک برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی میں بالترتیب 2.5 فیصد اور 3.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق، روسی تیل کے پروڈیوسرز اور ٹینکرز پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے رسد کے خدشات بڑھ گئے ہیں، اور ممکنہ امریکی شرح سود میں کمی کے ذریعے طلب کی بحالی کی توقعات بھی خام تیل کی مارکیٹ کو مضبوط کر رہی ہیں۔
امریکہ میں سرد موسم کی وجہ سے مٹی کے تیل کی طلب میں متوقع اضافہ بھی ایک اہم معاون عنصر ہے۔بائیڈن انتظامیہ نے گزشتہ جمعہ کو روسی تیل کے پروڈیوسرز اور ٹینکرز پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد روس کی فوجی صنعتی بنیاد اور پابندیوں سے بچاؤ کی کوششوں کے خلاف مزید اقدامات کیے گئے۔ ماسکو کے اہم گاہک چین اور بھارت اب عالمی سطح پر متبادل بیرل تلاش کر رہے ہیں، جس کے باعث شپنگ کی شرحوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔سرمایہ کاروں کی نظر ڈونلڈ ٹرمپ کے اگلے پیر کو دفتر سنبھالنے کے بعد خام تیل کی سپلائی پر مزید اثرات دیکھنے کی امیدوں پر مرکوز ہے۔