وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت کے موقع پر لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور شہریوں کے ساتھ براہِ راست ملاقات کر کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
وزیراعلیٰ نے سب سے پہلے لبرٹی چوک کا دورہ کیا جہاں انہیں دیکھتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ عوام نے خوشی کا اظہار کیا، وزیراعلیٰ کے ساتھ سیلفیاں بنوائیں اور ان کے اقدامات کو سراہا۔اس موقع پر مریم نواز نے اپنی گاڑی رکوا کر شہریوں سے بات چیت کی اور خاص طور پر موٹرسائیکل سواروں کو سیفٹی راڈ لگانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ بسنت کے دوران موٹرسائیکل چلانے پر مکمل پابندی نہیں، تاہم سیفٹی راڈ کے بغیر موٹرسائیکل چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی موٹرسائیکل پر حفاظتی راڈ نصب نہ ہوا تو بائیک بند کر دی جائے گی، کیونکہ یہ تمام اقدامات شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ کی آمد پر سیکیورٹی اہلکاروں نے عوام کو دور رکھنے کی کوشش کی، تاہم مریم نواز نے خود اہلکاروں کو ہٹا دیا اور شہریوں کے درمیان آ کر ان سے کھل کر گفتگو کی۔ انہوں نے بچوں سے خاص شفقت کا مظاہرہ کیا، ننھے شہریوں سے ہاتھ ملایا اور ایک بچے سے پیار کرتے ہوئے کہا کہ “آپ تو فوجی بھائی بنے ہوئے ہیں”۔ پیلی شرٹ میں ملبوس ایک معصوم بچی کو دیکھ کر وزیراعلیٰ نے خوشی کا اظہار کیا، اس سے ہاتھ ملایا اور شفقت سے بات کی۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں اور بسنت کے محفوظ انعقاد کے انتظامات کی بھرپور تعریف کی۔ ایک شہری نے گفتگو کے دوران کہا کہ “مریم نواز کراچی بھی آئیں، آپ کا کام حیران کن حد تک بہترین ہے اور نظر بھی آتا ہے”، جس پر وزیراعلیٰ مسکرائیں اور عوامی رائے کا شکریہ ادا کیا۔لبرٹی چوک کے بعد وزیراعلیٰ مریم نواز موچی گیٹ پہنچیں جہاں انہوں نے بسنت کے حوالے سے کیے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وہاں بھی شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے بسنت کے انعقاد اور حفاظتی اقدامات پر وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت کو سراہا۔دورے کے دوران مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد بسنت کو محفوظ، منظم اور خوشگوار بنانا ہے، تاکہ شہری بلاخوف و خطر اس تہوار کی خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔