لاہور(کرائم رپورٹر)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب راؤ عبدالکریم نے تعیناتی کے بعد سنٹرل پولیس آفس لاہور میں پنجاب پولیس کے پہلے اہم اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز، منیجنگ ڈائریکٹر سیف سٹیز، ڈی آئی جیز، اے آئی جیز اور دیگر سینئر پولیس افسران نے شرکت کی، جبکہ ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب، تمام آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے آغاز پر پنجاب پولیس کی اعلیٰ قیادت نے راؤ عبدالکریم کو انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاء اینڈ آرڈر، کرائم کنٹرول اور عوامی سروس ڈیلیوری کے حوالے سے اپنی ترجیحات سے افسران کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس افسران سرکاری امور کی انجام دہی میں ڈسپلن، رولز اینڈ پروسیجرز کو فالو کریں۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے دیے گئے تھانہ کلچر میں بہتری اور ٹریفک مینجمنٹ کے اہداف کی تکمیل اولین ترجیح ہے۔ وزیراعلیٰ کے " محفوظ پنجاب ویڑن "کو ٹیم ورک، میرٹ اور مربوط نظام کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گئے۔انہوں نے واضح کیا کہ سنگین جرائم کے کیسز کے فالو اپ کی بنیاد پر ضلعی افسران کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔ سینئر افسران عام آدمی کی رسائی کو یقینی بنائیں اور داد رسی کے امور خوددیکھیں۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ کرپشن، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور شہریوں سے بدسلوکی ریڈ لائن ہیں۔ اختیارات سے تجاوز اور ڈسپلن کی خلاف ورزی پر بلا امتیاز کڑا احتساب کیا جائے گا۔انہوں نے زور دیا کہ ہارڈ کور پولیسنگ کا پہلا اور آخری مقصد کرائم فائٹنگ، لا اینڈ آرڈر اور سکیورٹی ہونا چاہیے۔ آئی جی پنجاب نے کرائم کنٹرول اور منشیات کے تدارک کے لیے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کے اختتام پر سینئر پولیس افسران نے آئی جی پنجاب کو صوبہ بھر میں امن و امان کے قیام اور پنجاب کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔