پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے بانی پی ٹی آئی کے آرمی چیف کو لکھے گئے مبینہ خط کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے ایک "چارچ شیٹ" قرار دیا ہے۔
اپنے ایک انٹرویو میں عرفان صدیقی نے کہا کہ "فوج دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے، جوان اور افسر شہید ہو رہے ہیں، ایسے وقت میں ایسا خط لکھنا کہ عوام اور افواج کے درمیان کوئی خلیج حائل ہو گئی ہے، انتہائی افسوسناک ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ یہ خط ابھی تک نہ کسی نے دیکھا ہے، نہ پڑھا ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ "پتہ نہیں یہ خط کس کبوتر کی چونچ میں ہے اور وہ کب کس منڈیر پر اترے گا۔ نہ جانے کون لوگ کہاں سے بیٹھ کر خط لکھتے ہیں اور بانی پی ٹی آئی اسے اپنا خط قرار دے دیتے ہیں۔"ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ "یہ نام نہاد خط بانی پی ٹی آئی کی شدید مایوسی اور پریشانی کا اظہار ہے۔ وہ کبھی ایک دروازے پر دستک دیتے ہیں، کبھی دوسرے پر۔
وہ کبھی مذاکرات شروع کرتے ہیں اور پھر اچانک وجہ بتائے بغیر کسی اور راستے پر چل پڑتے ہیں۔"عرفان صدیقی نے بانی پی ٹی آئی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس واحد راستہ "سنجیدہ مذاکرات" ہیں، کیونکہ "بےمقصد خطوط نویسی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔"انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ "2023 میں بھی صدر عارف علوی کے ذریعے آرمی چیف کو ایک خط بھیجا گیا تھا، لیکن بانی پی ٹی آئی کو نہ اُس خط کی رسید ملی تھی، نہ اب اس خط کی کوئی رسید ملے گی۔"