اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات افہام و تفہیم سے ہوں تو اس پر انگلیاں نہیں اٹھتیں، نہ ہی پیسے کے لین دین کی شکایات سامنے آتی ہیں، اور ایوانِ بالا کا تقدس بھی برقرار رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی روایت ہے کہ اتفاقِ رائے سے سینیٹرز کے نام سامنے آ رہے ہیں، جب وہ خود پنجاب سے سینیٹر بنے تھے تب بھی انتخاب کی نوبت نہیں آئی تھی۔ ان کے مطابق سینیٹ میں جس پارٹی کی جتنی نشستیں بنتی ہیں، انہیں دے دی جائیں تو بہتر ہے۔عرفان صدیقی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت سیاست، بات چیت اور روایات پر یقین نہیں رکھتی بلکہ صرف احتجاجی سیاست جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کی مرضی ہے کہ 5 اگست کو مظاہرہ کریں یا 90 دن بعد، لیکن عوام ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ملک میں سڑکیں اور ترقیاتی منصوبے بناتے رہیں گے، جبکہ پی ٹی آئی چوراہوں اور سڑکوں پر احتجاج کرتی رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی صرف معاشی بدحالی، افراتفری اور احتجاجی سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے۔