پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عرفان صدیقی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی کسی حکومتی یا عسکری عہدیدار سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کوئی ڈیل، پیشکش یا مذاکرات کا مرحلہ نہیں ہے، یہ سب محض سیاسی شوشے ہیں جن سے لطف لینے والے لطف لیتے رہیں۔عرفان صدیقی نے سیاسی سیز فائر کی اصطلاح کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیز فائر تب ہوتا ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے ہوں، جبکہ حکومت کی طرف سے کوئی فائرنگ نہیں ہو رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سے ملاقاتیں صرف ان کی جماعت کے ارکان، وکلاء اور قریبی رشتہ داروں کی ہوئی ہیں، لیکن کوئی بیرونی یا عسکری رابطہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر عمران خان کو رہا کیا جائے تو معیشت بہتر ہوگی، تاہم سیاسی عدم استحکام کے باوجود پاکستان نے بھارت کے خلاف 78 سال میں پہلی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
میاں نواز شریف نے دونوں ایوانوں میں متفقہ قراردادوں کو خوش آئند قرار دیا ہے۔عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کے کارکنان کی طرف سے فائرنگ کے واقعات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے انہیں اپنی پارٹی میں نظم و ضبط قائم کرنا ہوگا اور حالات کو سمجھنا ہوگا کہ وقت بدل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور عالمی منظرنامے کی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اپنی پالیسی وضع کرے گا، اور اسی کے تحت معاملات آگے بڑھیں گے۔