الجزیرہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل اور بھارت کے درمیان دفاعی شعبے میں گہرے روابط موجود ہیں، جن میں بھارتی کمپنیوں کی جانب سے اسرائیلی دفاعی صنعت کو مختلف پرزہ جات اور اسلحہ سازی میں استعمال ہونے والا مواد فراہم کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی عسکری درآمدات میں بھارت کا ایک نمایاں حصہ شامل ہو سکتا ہے، اور بعض اعداد و شمار کے مطابق یہ حصہ تقریباً 26 فیصد تک بتایا گیا ہے۔ تحقیقات میں متعدد سرکاری دستاویزات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن کے ذریعے مبینہ طور پر بھارتی کمپنیوں کی جانب سے اسرائیلی دفاعی اداروں کو برآمدات کی تفصیلات سامنے لائی گئی ہیں۔الجزیرہ کے مطابق ان برآمدات میں مختلف قسم کے عسکری پرزے، دھماکا خیز مواد کے اجزاء اور توپ خانے سے متعلق سامان شامل ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ بھارتی کمپنیوں کے اسرائیلی دفاعی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان مبینہ دفاعی لین دین کے باعث بھارت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ ایک جانب سفارتی سطح پر دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے جبکہ دوسری جانب دفاعی تعاون میں بھی شامل ہے۔تاہم یہ تمام دعوے ایک تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج اور دستاویزات کی بنیاد پر ہیں، اور ان پر مختلف حلقوں کی جانب سے مزید تصدیق اور ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔