سبزہ زار لاہور

غلام علی
بچپن میں سنتے تھے ’’ جنے لاہور نہیں ویکھیا او جمیا ای نہی‘‘ ، ’’پولئے مَجے توں کی جانٹریں انار کلی دیا ں شاناں‘‘، ’’لاہور لاہور اے‘‘، ’’لاہور دا سُکھ نہ دلی وچ نہ ملتان وچ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ جب2006ء کے آخر میں روزگار کے سلسلے میں لاہور آنے کا اتفاق ہواتو ذرا ڈرے ڈرے،سہمے سہمے امیدوں کی بارات لئے لاہور میں داخل ہوئے۔ نئے ماحول کی اجنبی طلسمی آنکھوں نے ڈرایا، لاہور کی رنگ برنگی بتیوں نے اپنی کشش  دکھائی،نئے چہروں کے مصنوعی تیور دیکھے، منتشر سوچ نے انگڑائی لی، ماضی نے الوداعی ہاتھ ہلایا،حوصلوں نے ساتھ دینے کااشارہ کیا،خودی نے حوصلہ دیا، جذبات نے رخت ِسفر باندھا، زندگی نے ایک نیا رخ لیا اور ہم ایک نئی منزل کے طرف چل نکلے۔
انسان کو زندگی کے مختلف مشاہدات و تجربات گزرنا پڑتا ہے جس سے نئے نئے خیالات جنم لیتے ہیں اور انھی خیالات کی بدولت انسان کی عملی زندگی ایک خاص طرز کے سانچے میں ڈھلتی جاتی ہے۔ہم لاہور میں رہائش پذیر ہو چکے تھے ۔ روزانہ کی بنیاد پر حالات اورذمہ داریوں کی کشمکش کا سامنا کرنا پڑتا۔ لاہور کے مختلف علاقوں کے لوگ ملتے جن میں ہر بندہ اپنی طرز کا لائف سٹائل اپنائے ہوئے اپنے کردار کے لئے نمودار ہوتا۔ لاہور کے مختلف علاقوں کے نئے نئے نام سنتے تو معلوماتی لمحات کا احساس ہوتا۔ لاہور کے دروازوں (گیٹوں) کے ناموں سے تواور مزہ آتا، لوہاری گیٹ، موچی گیٹ ، دہلی گیٹ ، مستی گیٹ ، ٹیکسالی گیٹ، روشنائی گیٹ، شیروں والا گیٹ، کشمیری گیٹ، اکبری گیٹ، شاہ عالم گیٹ، بھاٹی گیٹ اوریکی گیٹ وغیرہ۔ کچھ علاقے اجنبیت کو اپنائیت میں بدل دیتے تھے ۔ جیسے ماڈل ٹائون، شاہدرہ، شادمان، اچھرہ ، گلبرگ، گڑھی شاہو، صدر کینٹ، شادباغ، مغل پورہ، ساندہ، اسلام پورہ غیرہ۔ لیکن ایک خاص نام جس نے دماغ میںاپنی جگہ بنائی وہ ’’سبزہ زار‘‘ تھا۔سبزہ زار سنتے رہے اور بادی النظر میں یہی رہا کہ ایک خوبصورت وسیع ترین علاقہ ہے جس کا نام سبزہ زار ہے۔جہاں سبزہ ہی سبزہ ہے۔جہاں مختلف انواع و اقسام کے پھول ہاتھ ہلا ہلا کر دعوتِ ملاقات دیتے ہوں گے۔جہاں خوشبوئوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں گے۔انھی خیالوں سے آنکھوں میں ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی۔
؎    پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار        اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن 
سبزہ صرف زمین کے آنچل میں کسی حصے کا رنگ نہیںبلکہ قدرت کا منہ بولتا مسرورشاہکار ہے۔رات بھر کسی کی مست یادوں میں بند آنکھوں سے سر گوشی کرتا رہتا ہے اورصبح شبنم کے قطروں سے اپنی مخمور آنکھیں کھولتا ہے۔ شبنم ہر صبح اس سبزے کے بوسے لے لے کر اپنے ہجر کی پیاس بجھاتی ہے۔ سبزے اور شبنم کی یہ ادائیں زندہ دلوں کو نغمہ حیات سناتی ہیں۔باد ِصباجب اس سبزے کی نرم زلفوں میں ہاتھ پھیرتی ہے تو سکون کا ایک نیا دیپ جلا دیتی ہے۔ اور پھر یہ بادِ صبا سبزے پر شبنم کے قطروں سے وضو کر کے کسی اور نگر چلی جاتی ہے۔ جس کا لمس نہ صرف انسان کے دل کی نگری میں پیار کی بانسری بجاتا ہے بلکہ ماحول کی رنگینی میں ایک نیا رنگ بھر تا ہے۔سبزہ صرف آنکھوں کولبھانے والا منظر نہیں بلکہ حسن ِجنت کی ندا ہے۔لکھنے دیں کہ سبزہ زندگی کی علامت ، روح کی تازگی کا سازاور قوموں کی بیداری کی للکار ہے ۔
چند سال قبل تھانہ سبزہ زار لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔گھر سے اس امید کے ساتھ نکلے کہ دل لبھانے والا منظر دیکھیں گے۔ مسکراتے ہوئے پھولوں کی مسکراہٹ دیکھیں گے ، پھولوں کی پتیوں اور کانٹوں کی چھیڑ چھاڑ کا شور سنیں گے۔ سورج کی کرنوں کا سبزے پر قبضہ دیکھیں گے۔سبزہ زار کے علاقے میں داخل ہوئے تو معاملہ سوچ کے بر عکس نکلا ۔ سنسان سے علاقے نے اپنی ہیبت کے جھنڈے گاڑے ہوئے تھے۔ بڑے بڑے گڑوں نے اپنی اپنی چوکیاں بنا رکھی تھیں۔ گندگی کے ناکوں نے راستے بدلنے پر بار بار مجبور کیا۔ مسافت مکمل ہونے پر تھانے میں گئے تو تھانے کی بلڈنگ دیگر تھانوں کی نسبت قدرے اچھی تھی۔تھانے میں تعلیم یافتہ نوجوان پولیس افسروں کے رویوں میں اطمینان، استقامت، رکھ رکھائو، مروت اور انسانیت دیکھنے کو ملی۔خیر اب وہی سبزہ زار ہے ، جس سے ہمیں پیار ہے۔کیوں کہ اس علاقے سے ہمارے احباب کی سکونتی نسبت ہے جیسے ہمارے بھائی ، فخرِ پولیس، ایس پی فرحت عباس، لوک گلو کارمحمد اشرف ملکو ۔موجودہ دور میں اس علاقے نے خوبصورتی کا زیورتو پہن رکھا ہے مگر ادائوں میں کمی باقی ہے۔بڑی بڑی اونچی اونچی عمارتوں نے اِس کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔ اس کے خوبصورت چوک دل لبھاتے ہیں۔لمبی ہموار سڑکیں دعوتِ سیر دیتی ہیں۔ مارکیٹیںانسانی آمدو رفت کو جلا بخشتی ہیں ۔اب سبزہ زار میں پولیس مقابلوں کی گونج نہیں آتی۔اب بڑے بڑے گڑوں نے اپنے سر چھپا لئے ہیں۔اب گندگی کسی دوسرے نگر رُخ کر گئی ہے۔ 
کتنا اچھا ہوتا سبزہ زار سبزے سے بھرا ہوتا ۔ کاش سبزہ زار میں ہر گھر کے سامنے ایک پھَل دار درخت ہوتا۔سبزہ صبح کی سیر کرنے والوں کو اپنی طرف کھینچتا۔ ابھرتے اور ڈوبتے سورج کی کرنیںسلامِ محبت پیش کرتیں۔ پھولوں کی خوشبوئیں فضا کو اپنی ادائوں سے معطر کرتیں۔ درختوں کی قطاریں آنے والوں کو خوش آمدید کہتیں۔حدیث کے مطابق’’ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے‘‘ جو مرنے کے بعد بھی انسان کے ساتھ رہے گا۔ جب کوئی بھی کام نہیں آئے گا ،کوئی بھی مدد نہیں کر سکے گا تو انسان کے اعمال انسان کا سہارا بنیں گے۔اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا ۔ اب بھی درخت لگ سکتے ہیں ۔اب بھی سبزہ اگ سکتا ہے۔ ان دنوں شجر کاری کے لئے بہت پیارا موسم ہے ۔ شجرکاری بھی نیکی ہے۔نیکی کرنے میں دیر نہ کریں ۔ہر بشر ایک شجر اپنے مرحوم بزرگوں کے نام سے لگائے۔جن کے نام زمین کا ٹکڑا نہیں۔ وہ اپنے گھر کی چھت پر ایک مٹی کا گملا رکھیں اس میں مٹی ڈالیں اور پانچ عدد کسی بھی سبزی کے بیج بو دیں ۔ گاہے بگاہے ایک لوٹا پانی ڈالتے رہیں ۔ سبزی کے پودے یا سبزی کی بیلیں آپ سے باتیں کریں گی۔ آپ کی آنکھوں کو تراوت بخشیں گی۔آپ ان سے سبزی بھی حاصل کر سکیں گے۔ ایک گملے میں لگی تین سے پانچ بیلیں ایک ہانڈی کی خوشبو اور لذت بھری سبزی مہیا کریں گی۔