پاکستان میں مزدوروں کی حالت زار؟

خالد جمشید 
"تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات"
1886ء میں نارتھ امریکہ میں کان کن مزدوروں سے 20، 18 اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ گھنٹے کام لیا جاتا تھا، مگر ان کے معاوضے میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جاتا تھا۔ مزدوروں نے متعدد بار جبری مشقت کے خلاف آواز بلند کی تو کان کنی کے مالکان نے ان پر تشدد کرنا شروع کر دیا۔ مزدوروں نے ظلم کے خلاف متحد ہو کر اوقاتِ کار میں کمی کے لیے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں مالکان نے اْس وقت کی حکومت سے مل کر مزدوروں پر تشدد کیا اس دوران 326 مزدور ہلاک ہو گئے ان مزدوروں کی ہلاکت کے بعد ابتدا میں مئی کے پہلے پیر (Monday) کو مزدوروں کا دن منایا جاتا تھا، مگر بعد میں یونائیٹڈ نیشنز (UN) کے فیصلے کے مطابق یکم مئی کو عالمی یومِ مزدور قرار دیا گیا اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک میں یہ دن سرکاری طور پر منایا جاتا ہے پاکستان بھی اقوامِ متحدہ کا رکن ہے، اس لیے یہاں بھی مزدور برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے یکم مئی کو انٹرنیشنل لیبر ڈے منایا جاتا ہے پاکستان میں مزدور تنظیمیں اس دن کے موقع پر کراچی سمیت دیگر شہروں میں تقریبات، واکس اور سیمینارز کا انعقاد کرتی ہیں، جن میں تقریباً 100 سے 200 مزدور یا مزدور رہنما شریک ہوتے ہیں۔ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بھی یومِ مزدور کو اجاگر کیا جاتا ہے اس موقع پر بینرز پر نعرے درج ہوتے ہیں جیسے "شکاگو کے شہیدوں کو سرخ سلام" اور "مزدوروں کو ان کے حقوق دو"یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ "ایشیا سرخ ہے" کا مطلب کیا ہے؟ اس کی وضاحت اکثر وہ لوگ بھی نہیں کر پاتے جو یہ نعرے لگاتے ہیں۔ مزید یہ کہ لفظ "شہید" کا استعمال مذہبی تناظر میں ہوتا ہے، جو عام طور پر مسلمانوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے، جبکہ دیگر مذاہب میں مختلف اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیںپاکستان میں مزدور تنظیموں کی تقریبات میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مہمانِ خصوصی مہنگی گاڑیوں میں آتے ہیں، قیمتی موبائل فون استعمال کرتے ہیں اور مہنگی گھڑیاں پہنے ہوتے ہیں، جو ایک تضاد کو ظاہر کرتا ہے دوسری جانب، ملک میں نجی شعبے کے تقریباً 90 فیصد مزدوروں کو تقرری کے خطوط نہیں دیے جاتے، حالانکہ وہ 15 سے 20 سال تک کام کرتے ہیں۔ اس کا مقصد اکثر تعلیم سیس، سوشل سیکیورٹی اور یونین سازی جیسے حقوق سے محروم رکھنا ہوتا ہے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (NIRC) اور لیبر کورٹس کے کردار پر بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں، کیونکہ اکثر مزدوروں کے استحصال کے معاملات حل نہیں ہو پاتے۔ بھٹہ مزدور، بانڈڈ لیبر اور ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے والے افراد آج بھی جبری مشقت کا شکار ہیںیہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جو کل تک مزدور تھا، وہ آج بعض اوقات مزدوروں کا استحصال کر کے خود آجر بن چکا ہے آخر میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا ایشیا واقعی سرخ ہے، یا ہرا ہے، یا پھر سیاہ — اس کا جواب ابھی تک واضح نہیں۔