رانا عامر محمود
لاہور، جو کبھی باغات اور قدرتی خوبصورتی کا حامل شہر تھا، آج سموگ کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ سموگ کی اس بڑھتی ہوئی تباہی نے نہ صرف لوگوں کی صحت کو متاثر کیا ہے بلکہ ماحول، معیشت، اور روزمرہ زندگی پر بھی منفی اثرات ڈالے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت اور مختلف اداروں کا کردار سوالیہ نشان بن چکا ہے، جو عوام کو اس عذاب سے نجات دلانے کے لیے ناکافی اور غیر موثر حکمت عملیوں پر انحصار کرتے نظر آتے ہیں۔
سموگ کی وجوہات اور حقائق: سموگ ایک خطرناک ماحولیاتی آلودگی ہے جو عموماً گاڑیوں، کارخانوں سے نکلنے والی آلودگی، کوڑے کے جلائے جانے، اور فصلوں کے بعد بچ جانے والے ملبے کو جلانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں فضا میں زہریلے کیمیکلز، دھوئیں، اور گردوغبار کا اخلاط ہوتا ہے جو سموگ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ لاہور میں سموگ کی شدت کے حوالے سے عالمی ادارے بھی بارہا خبردار کر چکے ہیں، مگر بدقسمتی سے حکومت اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے میں ناکام رہے ہیں۔
حکومتی اقدامات: ناکافی اور غیر موثر ہیں. حکومت نے سموگ کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے کچھ اقدامات ضرور کیے ہیں، جیسے گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ، بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی میں منتقل کرنا، اور کوڑے کو جلانے پر پابندی۔ مگر ان اقدامات کے نفاذ اور نگرانی میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔ حکومتی سطح پر بروقت فیصلہ سازی اور سخت اقدامات کی عدم موجودگی نے حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
مثال کے طور پر، پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) کا کردار اس حوالے سے اہم ہونا چاہیے تھا، مگر ان کی جانب سے سموگ کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ اگرچہ EPA کو صنعتی اداروں، کارخانوں، اور فیکٹریوں پر نگرانی رکھنے کا اختیار ہے، مگر وہ اس پر عمل درآمد میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔متعلقہ اداروں کی غفلت ٹریفک پولیس: گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں سموگ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ٹریفک پولیس کی ناکامی ہے کہ وہ گاڑیوں کے فٹنس چیک پر ٹھیک سے عمل درآمد نہیں کروا سکی، جس سے زہریلی گیسوں کا اخراج مسلسل بڑھ رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ: ضلعی انتظامیہ کو فیکٹریوں اور بھٹوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے تھی، مگر ان کا کردار بھی انتہائی کمزور رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً چھاپوں اور جرمانوں کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے، مگر ان کا اثر محدود ہے۔پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ: صحت کے شعبے میں سموگ سے متاثرہ لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے بھی نااہلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ہسپتالوں میں سموگ سے متاثرہ افراد کے لیے علیحدہ سہولتیں فراہم کرنے اور علاج معالجے کے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے۔عوام کی صحت اور زندگیوں پر اثرات سموگ کے باعث سانس کی بیماریوں، آنکھوں کی جلن، اور دیگر صحت کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بچے، بزرگ اور بیمار افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ سکولوں میں چھٹیاں کرنا اس کا حل نہیں، بلکہ یہ وقت ہے کہ حکومتی اور ادارے سنجیدہ اقدامات کریں۔ لاہور میں سموگ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس سے نجات کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ عوام کی صحت اور زندگیوں کا معاملہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عوام بھی اس میں اپنا کردار ادا کریں اور متعلقہ اداروں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں تاکہ ہم سب مل کر اپنے پیارے شہر کو دوبارہ سانس لینے کے قابل بنا سکیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، سموگ جیسے آلودگی کے شدید حالات اگر 10 دن تک برقرار رہیں تو صحت، معیشت، اور ماحول پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس میں اموات کا خطرہ بھی شامل ہے۔ ان اثرات کا جائزہ درج ذیل ہے:
1. سانس اور دل کی بیماریاں:
سموگ میں موجود زہریلے ذرات (جیسے PM2.5 اور PM10) سانس کی بیماریوں، دل کی بیماریوں، اور پھیپھڑوں کی خرابی کا سبب بنتے ہیں۔ ان حالات میں، ان بیماریوں سے متاثرہ افراد کے لیے اموات کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ WHO کے مطابق آلودہ ہوا میں سانس لینے سے دل اور پھیپھڑوں کے امراض بڑھنے سے اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
2. فوری اموات کا امکان:
ایسے شدید آلودگی کے حالات میں، خاص طور پر جن لوگوں کو پہلے سے سانس یا دل کی بیماریاں ہیں، ان کی حالت بگڑ سکتی ہے۔ WHO کے مطابق، اگر سموگ کی سطح بہت زیادہ ہو اور حفاظتی اقدامات نہ کیے جا… 3. بچوں اور بزرگوں پر اثرات:بچے اور بزرگ خاص طور پر سموگ سے متاثر ہوتے ہیں۔ WHO کی رپورٹوں کے مطابق، ایسے حالات میں بچوں میں سانس کی بیماریاں بڑھنے اور بزرگوں میں قوت مدافعت کم ہونے سے اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
4. اموات کی تخمینہ:
پاکستان جیسے ملک میں اگر سموگ کی صورتحال برقرار رہے تو ایک اندازے کے مطابق 10 دن میں سینکڑوں یا ہزاروں افراد تک کی جانیں جا سکتی ہیں، خاص طور پر لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں جہاں فضائی آلودگی کی سطح پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔
5. لانگ ٹرم اثرات اور اموات میں اضافہ:
WHO کی رپورٹوں کے مطابق، اگرچہ زیادہ تر لوگ فوری طور پر نہ مریں، لیکن ایسی طویل آلودگی سے لوگوں کی صحت میں ایسی خرابی پیدا ہوتی ہے جو مستقبل میں اموات کا سبب بن سکتی ہے۔WHO کے مطابق، اس طرح کے خطرناک حالات میں فوری حفاظتی اقدامات، جیسے اسکولوں کی بندش، لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت، اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کی تیاری ناگزیر ہے تاکہ ممکنہ اموات کو کم کیا جا سکے۔
برطانیہ کی حکمت عملی: کلین ایئر ایکٹ اور اس کا اثر1950 کی دہائی میں، برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں اسموگ ایک سنگین مسئلہ بن چکا تھا۔ خاص طور پر 1952 میں، لندن میں ایک تاریخی اسموگ کا واقعہ پیش آیا جسے ’’گریٹ اسموگ آف لندن‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس پانچ دن کے اسموگ نے ہزاروں لوگوں کی جانیں لیں اور اس کے اثرات صحت پر طویل عرصے تک محسوس کیے گئے۔ اسموگ کی شدت نے حکومت کو فوری اقدامات پر مجبور کیا۔ کلین ایئر ایکٹ: 1956 میں، برطانیہ نے "کلین ایئر ایکٹ" (Clean Air Act) متعارف کروایا۔ اس قانون کے تحت
رہائشی اور صنعتی علاقوں میں کوئلے اور دیگر آلودگی پھیلانے والے ایندھنوں کے استعمال پر پابندی عائد کی گء۔
فیکٹریوں اور کارخانوں کے لیے نئی ٹیکنالوجی اپنانے کو لازمی قرار دیا گیا۔"سموکی زونز" کا تعین کیا گیا، جہاں مخصوص ایندھن کے استعمال کی ممانعت تھی۔نتائجکلین ایئر ایکٹ کے بعد لندن اور دیگر شہروں میں اسموگ میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی۔ بعد ازاں اس قانون میں تبدیلیاں کی گئیں تاکہ نئے مسائل کو بھی حل کیا جا سکے، جیسے گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی۔ چین کا تجربہ اسموگ پر قابو پانے کی وسیع مہم مسئلہ کی شدت
چین میں اسموگ کی صورتحال 1990 کی دہائی سے سنگین ہونے لگی، خاص طور پر بیجنگ اور شنگھائی جیسے شہروں میں۔ چین کی تیزی سے بڑھتی معیشت اور بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی نے ہوا کو شدید آلودہ کر دیا۔ 2013 تک، چین میں کئی شہر اسموگ کے بحران کا شکار ہو چکے تھے۔چین نے اسموگ پر قابو پانے کے لیے "نیشنل ایکشن پلان آن ایئر پولوشن" (2013) متعارف کروایا، جس کے تحت درج ذیل اقدامات کیے گئے. چین نے آلودگی پھیلانے والے کارخانوں کو بند کیا یا انہیں دور دراز علاقوں میں منتقل کر دیا. نئی گاڑیوں کے لیے سخت اخراج کے قوانین متعارف کروائے گئے۔ پرانی اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کو سڑکوں سے ہٹا دیا گیا۔ چین نے بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلے کے بجائے گیس اور قابل تجدید توانائیوں کا استعمال بڑھایا۔ چین نے شہری علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنایا، جس سے عوام کو پرائیوٹ گاڑیوں کی ضرورت کم ہو گئی۔چین کی ان کوششوں سے اسموگ میں خاطر خواہ کمی آئی۔ 2018 تک چین میں PM2.5 جیسے مضر ذرات میں کمی دیکھنے کو ملی، اور لوگوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
چین اور برطانیہ کی حکمت عملیوں کا موازنہ
موثر قوانین اور سختی سے عمل درآمد: فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ بھٹوں اور فیکٹریوں پر سخت پابندی لگائی جائے اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی جائے۔عوام کو سموگ کے اثرات اور اس سے بچاؤ کے بارے میں آگاہ کیا جائے تاکہ وہ خود بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔متبادل توانائی کے ذرائع کارخانوں اور بھٹوں کو ماحولیاتی آلودگی کم کرنے والے توانائی کے ذرائع استعمال کرنے پر مجبور کیا جائے۔ گاڑیوں کی فٹنس چیک کو لازمی قرار دیا جائے اور صرف ماحول دوست گاڑیوں کو ہی سڑکوں پر چلنے کی اجازت دی جائے۔