یس پی سدرہ خان کی اعلیٰ قیادت، سبزہ زار انویسٹی گیشن کی معصوم لڑکی کی برآمدگی

 محمد ندیم بھٹی
کسی بھی معاشرے میں ریاست کی اصل طاقت اس وقت نمایاں ھوتی ھے جب وہ کمزور، بے بس اور خوف زدہ شہری کے ساتھ کھڑی نظر آئے۔ خاص طور پر جب معاملہ ایک کم سن بچی کے اغوا جیسا حساس اور دل دہلا دینے والا ھو تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حقیقی امتحان شروع ھو جاتا ھے۔ لاہور کے علاقے سبزہ زار میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ بھی ایسا ہی ایک کڑا امتحان تھا، جس نے ایک خاندان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا اور پورے علاقے میں خوف اور بے یقینی کی فضا قائم ھو گئی۔
ایف آئی آر نمبر 967/26 تھانہ سبزہ زار کے تحت درج ھونے والا یہ مقدمہ بظاہر ایک عام اغوا کا کیس محسوس ھو رھا تھا، مگر حقیقت میں یہ ایک معصوم زندگی کا سوال تھا۔ اغوا شدہ بچی کی والدہ کی آنکھوں میں آنسو، چہرے پر خوف اور دل میں اندیشوں کا طوفان تھا۔ ایسے لمحات میں اگر ریاستی ادارے روایتی تاخیری حربوں یا محض کاغذی کارروائی تک محدود رہیں تو نتیجہ ایک بڑے سانحے کی صورت میں نکل سکتا ھے، کیونکہ وقت اس قسم کے کیسز میں سب سے اہم عنصر ھوتا ھے۔
یہاں اقبال ٹاؤن ڈویڑن انویسٹی گیشن کا کردار نمایاں ھو کر سامنے آیا۔ ایس پی انویسٹی گیشن سدرہ خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہی تفتیش کو غیر معمولی سنجیدگی دی اور واضح ہدایات جاری کیں کہ اس کیس میں کوئی لمحہ ضائع نہیں کیا جائے گا۔ ان کی قیادت میں تفتیش کو فائلوں اور رسمی رپورٹوں سے نکال کر عملی میدان میں منتقل کیا گیا، جہاں فیلڈ ورک، جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ معلومات کو یکجا کر کے کام شروع کیا گیا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ھ?ے کہ کسی بھی حساس کیس میں قیادت کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ھے۔ ایس پی سدرہ خان نے نہ صرف ماتحت افسران کو اعتماد دیا بلکہ ہر مرحلے پر خود نگرانی کر کے یہ واضح پیغام دیا کہ یہ کیس محض ایک فائل نہیں بلکہ ایک انسانی جان سے جڑا معاملہ ھے۔
انسپکٹر خالد فاروق کو اس کیس کی براہِ راست ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے فوری طور پر ایک متحرک اور تجربہ کار ٹیم تشکیل دی اور جدید ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد  مشتبہ افراد اور مقامات کی نشاندہی شروع کی۔ موبائل لوکیشن، خفیہ نیٹ ورک، سی سی ٹی وی فوٹیج اور فیلڈ رپورٹس نے تفتیش کو درست سمت دی، جس کا مقصد صرف ایک تھا، معصوم بچی کی بحفاظت بازیابی۔
تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اغوا شدہ بچی کو سبزہ زار سے منتقل کر کے شاہدرہ کے علاقے میں رکھا گیا ھے۔ یہ اطلاع نہایت حساس تھی، کیونکہ اس مرحلے پر کسی بھی غلط قدم سے بچی کی جان کو شدید خطرہ لاحق ھو سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ چھاپہ مار ٹیم کو غیر معمولی احتیاط، مکمل تیاری اور خاموش حکمت عملی کے ساتھ کارروائی کی ہدایت دی گئی۔شاہدرہ میں ہونے والی کارروائی میں چھاپہ مار ٹیم کے رکن محمد ارشد کا کردار خصوصی اہمیت اختیار کر گیا۔ محمد ارشد نے نہایت خاموشی، جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ٹیم کے ہمراہ کارروائی کی۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر اس انداز میں چھاپہ مارا گیا کہ اغوا کاروں کو نہ مزاحمت کا موقع ملا اور نہ ہی بچی کسی خطرے میں پڑی۔

محمد ارشد اور ان کی ٹیم، جن میں ذیشان ٹائگر بھی شامل تھے، نے ثابت کیا کہ اصل پولیسنگ وھی ھے جس میں طاقت سے زیادہ حکمت عملی، جلد بازی کے بجائے تدبر اور شور کے بجائے خاموشی شامل ھو۔ بغیر کسی غیر ضروری تشہیر یا ہنگامہ آرائی کے اغوا شدہ بچی کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے پوری کارروائی کو ایک مثال بنا دیا۔
چار گھنٹوں سے بھی کم وقت میں مکمل ھونے والی یہ ریکوری محض اتفاق نہیں تھی بلکہ مربوط قیادت، فیلڈ ٹیم کی محنت اور انٹیلیجنس بیسڈ پولیسنگ کا عملی ثبوت تھی۔ بچی کو فوری طور پر سبزہ زار منتقل کیا گیا، جہاں ضروری قانونی کارروائی اور طبی معائنہ مکمل کرنے کے بعد اسے اس کی والدہ کے حوالے کیا گیا۔ ماں اور بیٹی کے ملن کا وہ منظر پورے علاقے کے لیے سکون اور اطمینان کا باعث بنا۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ھے کہ ایس پی انویسٹی گیشن سدرہ خان نے بازیابی کے بعد بھی کیس کو محض نمٹایا ھوا سمجھ کر چھوڑ نہیں دیا۔ بچی کی نفسیاتی حالت، خاندان کی سیکیورٹی اور آئندہ کے قانونی تقاضوں کو انسانی ہمدردی کے ساتھ مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ یہی وہ پہلو ھے جو پولیس کے ایک عام ایکشن اور ایک ذمہ دار ادارے کے کردار میں فرق پیدا کرتا ھے۔
انسپکٹر خالد فاروق کی قیادت میں کام کرنے والی ٹیم نے یہ ثابت کیا کہ جب فیلڈ افسران کو اعتماد دیا جائے، غیر ضروری دباؤ سے آزاد رکھا جائے اور میرٹ پر فیصلے کیے جائیں تو وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔ محمد ارشد جیسے اہلکار، جو عملی میدان میں خاموشی سے اپنی جان خطرے میں ڈال کر فرائض سرانجام دیتے ہیں، درحقیقت محکمہ پولیس کی اصل طاقت ہیں۔یہ کیس ہمارے معاشرے کے لیے ایک واضح پیغام بھی ھے۔ بچوں کا اغوا، انسانی اسمگلنگ اور کمزور طبقات کا استحصال ایک تلخ حقیقت ھے، جس کا مقابلہ صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہی ممکن ھے۔ جب پولیس بروقت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت سے کام کرے تو جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے ضرور پست ھوتے ہیں۔ اقبال ٹاؤن ڈویڑن انویسٹی گیشن کی یہ کارروائی اسی عزم اور صلاحیت کی عکاس ھے۔
یہ بھی حقیقت ھے کہ پولیس پر تنقید کرنا آسان ھے، مگر جہاں محکمہ اچھا کام کرے وہاں اس کی تحسین بھی اتنی ہی ضروری ھے۔ سبزہ زار سے شاہدرہ تک اس کامیاب کارروائی نے یہ ثابت کر دیا ھے کہ اگر قیادت مضبوط ھو، ٹیم متحد ھو اور نیت صاف ھو تو قانون واقعی حرکت میں آتا ھے اور عام شہری خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا۔
میں سمجھتا ھوں کہ یہ واقعہ صرف ایک اغوا کیس کی کامیاب تفتیش نہیں بلکہ ایک امید کی علامت ھے۔ ایک مثال اس بات کی کہ ریاست چاھے تو چند گھنٹوں میں خوف کو اعتماد میں بدل سکتی ھے۔ اقبال ٹاؤن ڈویڑن انویسٹی گیشن، ایس پی سدرہ خان، انسپکٹر خالد فاروق، محمد ارشد اور ان کی ٹیم واقعی اس کامیابی پر مبارکباد کی مستحق ھے، کیونکہ انہوں نے نہ صرف ایک معصوم بچی کو محفوظ بنایا بلکہ پولیس پر عوامی اعتماد کو بھی نئی زندگی دی ھے۔