پاکستان میں محنت کش طبقے کی حالت زار اور اصلاحات کی ضرورت

شمس الرحمن سواتی
ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور  اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ محنت کش طبقے کے حقوق، تحفظ اور فلاح و بہبود کو اجاگر کیا جائے۔ پاکستان میں بھی یہ دن اہمیت رکھتا ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں مزدور آج بھی کئی بنیادی معاشی اور سماجی تحفظات سے محروم ہیں۔پاکستان کی لیبر مارکیٹ کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ معیشت کا بڑا حصہ محنت کشوں پر کھڑا ہے، لیکن وہی طبقہ سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے۔
پاکستان میں لیبر مارکیٹ کی صورتحال

تازہ اندازوں کے مطابق پاکستان کی کل لیبر فورس تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ افراد پر مشتمل ہے، جس میں تقریباً 83% مزدور انفارمل سیکٹر میں کام کر رہے ہیں‘صرف 17% کے قریب فارمل سیکٹر میں شامل ہیں
یہ اعداد و شمار ایک واضح حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت بنیادی طور پر غیر رسمی (Informal Economy) پر چل رہی ہے، جہاں مزدور نہ سوشل سیکیورٹی کے دائرے میں آتے ہیں اور نہ ہی انہیں قانونی تحفظ حاصل  ہے۔
 ٹریڈ یونینز: کمزور نمائندگی
پاکستان میں مزدوروں کی نمائندگی کا اہم ذریعہ ٹریڈ یونینز ہیں، ایک اندازے کے مطابق رجسٹرڈ یونینز کی تعداد 7000 ہے ان میں چند سو متحرک ہیں  ‘ تقریباً 14, لاکھ ممبرز ہیں ‘اکثریت پاکٹ یونین پر مشتمل اور ان یونینز سے متعلقہ فیکٹری ،کارخانے کے مزدور بھی مکمل طور پر لاعلم ہوتے ہیں‘ یونینائزیشن کی شرح صرف 2% پلس ہوگی ‘یہ شرح عالمی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔
بنیادی رکاوٹیں:پیچیدہ اور پرانے لیبر قوانین‘آجر (Employer) کی مزاحمت‘ یونین سازی پر غیر رسمی دباو‘* انفارمل سیکٹر کا قانونی دائرے سے باہر ہونا‘نتیجتاً مزدور اپنی اجتماعی آواز مؤثر انداز میں بلند نہیں کر پاتے۔
 سوشل سیکیورٹی: محدود دائرہ کار
پاکستان میں سوشل سیکیورٹی ادارے جیسے EOBI اور صوبائی سوشل سیکیورٹی ادارے موجود ہیں، لیکن ان کی کوریج نہایت محدود ہے:*EOBI رجسٹرڈ افراد: تقریباً 8.6 ملی‘* فعال شراکت دار: صرف 2.6 ملی‘* مجموعی لیبر فورس کے مقابلے میں کوریج بہت کم ہے ب
نتیجہ:پاکستان کا 90% سے زائد مزدور طبقہ کسی بھی باضابطہ سوشل پروٹیکشن کے بغیر کام کر رہا ہے۔
نئی حقیقت: ڈیجیٹل اور گیگ ورکرزآج کے دور میں ایک نیا طبقہ تیزی سے ابھر رہا ہے: فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز‘ Bykea / Careem ڈرائیورز‘فری لانسر‘ ہوم بیسڈ ورکرزیہ Gig Economy Workers ہیں، جو پلیٹ فارم پر کام کرتے ہیں مگران کے پاس مستقل ملازمت نہیں‘ انشورنس اور پنشن نہیں‘قانونی تحفظ غیر واضح ہے‘* آمدنی غیر مستحکم ہییہ طبقہ جدید معیشت کا حصہ ہونے کے باوجود پرانے لیبر قوانین کے دائرے سے باہر ہے۔
 ادارہ جاتی مسائل
پاکستان کے لیبر ادارے مختلف مسائل کا شکار ہیں: کمزور گورننس اور انتظامی ڈھانچہ‘ ڈیٹا کی کمی اور غیر شفاف نظام‘فنڈز کے استعمال میں بے ضابطگیاں
 ادائیگیوں اور بینیفٹس میں تاخیر
یہ عوامل مزدوروں کے اعتماد کو مزید کمزور کرتے ہیں۔اصل چیلنج: تحفظ کا خلا (Protection Gap)پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے  لیبر فورس: ساڑھے آٹھ کروڑ ‘محفوظ طبقہ: 10%سے بھی کم ہے اورغیر محفوظ طبقہ: >90% سے زیادہ ہے‘یہ ‘‘Protection Gap’’ نہ صرف معاشی مسئلہ ہے بلکہ ایک سماجی بحران بھی ہے۔
پاکستان میں مزدوروں کی حالت بہتر بنانے کیلئے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں: قومی لیبر رجسٹری (National Labour Registry)‘تمام مزدوروں کو NADRA-linked ڈیجیٹل سسٹم میں رجسٹر کیا جائے تاکہ حقیقی ڈیٹا دستیاب ہو۔ انفارمل سیکٹر کو قانونی دائرے میں لانا‘چھوٹے کاروبار اور غیر رسمی مزدوروں کو آسان رجسٹریشن کے ذریعے سسٹم میں شامل کیا جائے۔
. گیگ ورکرز کی قانونی حیثیت
قانون میں ‘‘Platform Workers’’ کی تعریف شامل کر کے ان کے حقوق واضح کیے جائیں۔ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی اصلاحات* مکمل ڈیجیٹلائزیش‘ شفاف کنٹریبیوشن سسٹ‘ فوری اور خودکار بینیفٹ ڈلیوری‘ٹریڈ یونین قوانین میں آسانی‘رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنایا جائے‘ یونین سازی پر غیر ضروری پابندیاں ختم ہوں‘شفافیت اور ڈیجیٹل مانیٹرنگتمام لیبر فنڈز اور اداروں کیلئے پبلک ڈیٹا ڈیش بورڈ بنایا جائے۔یومِ مزدور صرف ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے پاکستان کا مزدور آج بھی کم اجرت‘غیر یقینی روزگار‘ سوشل سیکیورٹی کی کمی اور قانونی تحفظ کے فقدانکا شکار ہے۔پاکستان میں پہلے ہی مزدور طبقے کے کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں اب تعلیمی اداروں کی نجکاری کی وجہ سے جو چند پڑھ سکتے تھے وہ بھی محروم ہو جائیں گے۔ مزدور طبقے کی اکثریت کم خوراک کی وجہ سے بیماروں کا شکار رہتی اور ہسپتالوں کی نجکاری کے باعث رہی سہی کثر بھی نکل جائے گیاگر پاکستان کو ایک مضبوط اور پائیدار معیشت کی طرف لے جانا ہے تو مزدور طبقے کو مرکزی اقتصادی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب محنت کش کو صرف ‘‘کام کرنے والا فرد’’ نہیں بلکہ معاشی نظام کا محفوظ اور بااختیار حصہ سمجھا جائے۔اور خود مزدور طبقہ اپنی طاقت کو پہچانے ساڑھے کروڑ کی تعداد ایک جمہوری ملک میں بہت بڑی طاقت ہے یہ ہماری آبادی  کا تیسرا حصہ ہے ‘مزدوروں کو نظام کی تبدیلی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا 
جاگیرداروں ،سرمایہ داروں اور افسر شاہی کے شکنجے سے نکل کر اپنی جیسی باکردار ،اہل اور باصلاحیت ،دیانتدار،خدمت گار کے ساتھ مل کر اس گلے سڑے بدبودار نظام کو بدلنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا