لاہور کو بچا لو

تحریر: تصور حسین شہزاد
لاہور کی فضا عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے متعین کردہ معیار سے 80 فیصد زیادہ آلودہ ہو چکی ہے۔ سورج کی روشنی سے سانس لینے تک، ہر چیز پر ٹیکس وصول کرنیوالے حکمران اتنے نااہل اور نالائق ہیں، کہ 1980 سے آج تک وہ لاہور کیلئے اتنا بھی نہیں کر سکے کہ لاہور کے شہریوں کو سانس لینے کیلئے صاف ہوا ہی میسر آ سکے۔ ہاوسنگ سوسائٹیوں کا اڑدھا لاہور کا سبزہ نگل چکا ہے۔ آبادی میں اضافہ جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔ پلاٹوں کے کاروبار میں اندھے حکمران اور اشرافیہ نے شہر کی ہوا تک میں زہر ملا دیا ہے۔ موجودہ حکومت بالخصوص مسلم لیگ (ن) لاہور کی ’’مالک‘‘ ہونے کی دعویدار ہے۔ مگر(ن) لیگ کی حکومت نے بھی اس بات کا بالکل دھیان نہیں رکھا کہ شہر کے بے ہنگم پھیلاو اور زرعی زمینوں کا ختم کرنے کے نتائج کتنے سنگین ہوں گے۔ ماہرین دہائیوں سے چیخ رہے ہیں، مگر ہر شعبہ میں مافیاز ہیں، جو حکمران اشرافیہ، افسر شاہی سمیت سب کا منہ بند کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ بھارت سے آنیوالی آلودہ ہواوں نے لاہور کا ماحول خراب کیا ہے۔ یہ نااہل حکمران یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے، لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس کل جب 755 تھا، اس وقت امرتسر میں ایئرکوالٹی انڈیکس پر آلودگی کی شرح 152 تھیں۔ کوئی ان حکمرانوں سے پوچھے کہ، اگر سموگ بھارت سے آ رہی ہے، تو امرتسر پر کوئی نظر نہ آنیوالا غلاف چڑھا ہوا ہیَ؟ دہلی بھی بڑا شہر ہے، اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے اکثر آلودگی سے متاثر رہتا ہے۔ ہمارے ہاں محکمہ تحفظ ماحولیات کام کر رہا ہے۔ جن کا کام آلودگی پھیلانے والے عوامل کو کنٹرول کرنا ہے۔ مگر شنید ہے کہ ماحولیات کی ٹیمیں آلودگی پھیلانے والے یونٹس کی انسپکشن کرتی ہیں، جہاں سے اچھا ’’چائے پانی‘‘ مل جائے، انہیں وارننگ دے کر چھوڑ دیتی ہیں، اور جہاں سے انکار ہو جائے، اس یونٹ کو سربمہر کر دیا جاتا ہے۔ یہی کچھ ٹریفک پولیس بھی کر رہی ہے۔ ٹریفک پولیس میڈیا میں اپنی کارکردگی بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے، سیف سٹی کے کیمروں کی مانیٹرنگ کے باوجود دھواں پھیلانے والی گاڑیوں کو کوئی نہیں پوچھتا، ہاں اس میں پرائیویٹ گاڑیاں بہت کم ہیں جو آلودگی پھیلا رہی ہیں۔ زیادہ تر سرکاری گاڑیاں آلودگی پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔ ان میں ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑیاں جو کوڑا جمع کرتی ہیں، وہ بہت زیادہ دھواں چھوڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ پی ایچ اے کی گاڑیوں کی بھی ایسی ہی حالت ہے۔ خود پولیس وینز بھی پیچھے نہیں ہیں۔ ان کی مرمت کے پیسے اکثر افسران کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں۔ گاڑیوں کی دیکھ بھال پر یہ بجٹ خرچ ہی نہیں ہوتا۔ اگر اس کا حکومت کوئی خفیہ سروے کروائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکتا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیوں کی گاڑیاں جو بینکوں میں پیسے منتقل کرتی ہیں۔ وہ تو اس وقت پورے لاہور میں سب سے زیادہ ان فٹ ہیں۔ ان کا تو پولیس والے چالان بھی نہیں کرتے۔ شہر کی فضا اس وقت انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔ ایئر کوالٹی انڈیکس ایک ہزار کی حد عبور کر چکا ہے۔ گلے اور آنکھوں کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ سانس کے مریضوں کیلئے باہر نکلنا ہی محال ہو چکا ہے۔ حکومت مسلسل شہریوں کو ہدایات کر رہی ہے کہ بلاوجہ باہر نہ نکلیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، آوٹ ڈور سرگرمیاں ترک کر دیں، دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں۔ مگر آلودگی کے عوامل کو کنٹرول نہیں کیا جا رہا۔ لاہور کے گردونواح میں 80 اور90 کی دہائی میں سبزہ ہی سبزہ تھا۔ مگر لینڈمافیا نے اپنے سیاسی اثرورسوخ سے ہاوسنگ سوسائیٹیوں کا ایسا جال بچھا دیا، کہ اب تو ہر طرف عمارتیں ہی عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔ سبزہ تو اب خواب بن گیا ہے۔ اس کے علاوہ شجرکاری مہم بھی دکھاوے کی چلائی جاتی ہے۔ بس پودا لگایا، تصویر بنوائی، اسے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا، اللہ اللہ خیر صلا، ذمہ داری پوری ہو گئی۔ حالانکہ نہ اس پودے کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، نہ نگرانی، کہ پودا درخت بنے اور ہمیں آکسیجن دے۔ ہم خود ہی اپنے کیلئے مشکلات پیدا کرتے آ رہے ہیں، اور آج اس کا پھل ہمیں مل رہا ہے کہ ہم  نے سموگ کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کر دیئے ہیں۔ بچوں اور بزرگوں کو گھروں میں قید کر دیا ہے۔ بچوں اور بزرگوں کی قید کرنے کی بجائے ہم ہاوسنگ مافیاز، صنعتی یونٹس، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو قید کرتے تو اس وقت صورتحال مختلف ہوتی۔ سکولوں کی بندش سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے، شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ شہر میں سانس لینا تک دشوار ہو چکا ہے۔ لاہور، جو کبھی باغوں کا شہر تھا، آج آلودہ فضا کے باعث اپنی شناخت کھو چکا ہے۔ لاہور کو عمارتوں کا شہر بنانے کی بجائے، اسے باغوں کا شہر رہنے دیں، حکمرانوں سے اپیل ہے، لاہور کو بچا لیں۔۔