سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے اپنی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ صدرِ پاکستان نے کینال منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، جس پر سعدیہ جاوید نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان پر ہنسی آرہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اطلاعات پنجاب کی معلومات ناقص ہیں اور انہیں اس بارے میں مزید سمجھنا چاہیے۔ سعدیہ جاوید نے سوال کیا کہ عظمیٰ بخاری بتائیں کہ صدر کے پاس کون سی ایگزیکٹو سمری منظور کرنے کا اختیار ہے، اور اگر صدرِ مملکت کے حوالے سے جھوٹ پھیلایا گیا تو اس پر پیکا (پی ٹی اے) قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔دوسری طرف، سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے بھی عظمیٰ بخاری کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور انہیں آئین کا مطالعہ کرنے کی تجویز دی۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "کیا آپ نے آئین پڑھا ہے؟ کیا آپ کو آئین پڑھنا آتا ہے؟" انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ صدر کینال منصوبوں کی منظوری دے سکتے ہیں۔ شرجیل میمن نے پیپلز پارٹی کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے واضح طور پر کہا ہے کہ کینال منصوبوں کو کسی صورت میں بننے نہیں دیا جائے گا۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سندھ اور پنجاب حکومتوں کے درمیان کینال منصوبوں کے حوالے سے اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سندھ حکومت نے واضح طور پر کینالوں کی تعمیر کی مخالفت کی ہے، اور پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ یہ منصوبے سندھ کے مفاد میں نہیں ہیں اور ان کے ذریعے سندھ کے پانی کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔