کراچی میں حالیہ دنوں میں جرائم کی شرح میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس میں ڈکیتی، قتل اور دیگر سنگین واقعات شامل ہیں۔
شہریوں کی عدم تحفظ کا احساس دن بہ دن بڑھ رہا ہے، اور پولیس اور حکومتی اقدامات ناکافی نظر آتے ہیں۔ ذیل میں تفصیلات پیش کی جا رہی ہیں:
1. فقیرا گوٹھ میں حاملہ خاتون کا قتل
واقعہ: سائٹ سپر ہائی وے کے قریب فقیرا گوٹھ کے علاقے میں دو موٹرسائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں نے ایک جوڑے پر حملہ کیا۔
مزاحمت پر فائرنگ: 25 سالہ حاملہ خاتون صائمہ (زوجہ عرفان) کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جبکہ ان کے شوہر کو شدید صدمہ پہنچا۔
پولیس کی کارروائی: سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ اور جیو فینسنگ کے ذریعے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
2. ملیر سٹی میں فائرنگ سے قتل
واقعہ: ملیر سٹی میں ایک جھگڑے کے دوران فائرنگ سے 40 سالہ حمزہ ہلاک ہو گیا۔
تفتیش: پولیس نے 30 بور کے چار خول برآمد کیے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
3. فیڈرل بی ایریا میں 10 روز پرانی لاش
واقعہ: بلاک 21 کے ایک فلیٹ سے 65 سالہ نزعت فاطمہ کی لاش ملی، جو 10 دن سے پڑی تھی۔
وجہِ موت: خاتون تنہا رہتی تھیں، پوسٹ مارٹم کے بعد ہی موت کی وجہ واضح ہو سکے گی۔
4. بھیم پورہ میں خودکشی کا واقعہ
واقعہ: امام بارگاہ کے قریب ایک گھر سے 19 سالہ دین اسلام کی پھندا لگی لاش ملی۔
پولیس کا موقف: ابتدائی طور پر خودکشی کا شبہ ہے، لیکن تفتیش جاری ہے۔
شہریوں میں خوف و اضطراب
کراچی کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی، قتل اور دیگر جرائم میں اضافے نے شہریوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے موثر اقدامات نہ ہونے کے باعث مجرم بے خوف ہو کر جرائم کر رہے ہیں۔عوام کا مطالبہ ہے کہ سیکیورٹی کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں۔
حکومت اور پولیس کا ردعمل
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تمام واقعات کی تفتیش کر رہی ہے اور مجرموں کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔تاہم، شہریوں کا ماننا ہے کہ محض تحقیقات کافی نہیں، بلکہ عملی طور پر جرائم پر قابو پانے کے لیے جامع حکمت عملی درکار ہے۔کراچی میں قانون و حکومت کی کمزور کارکردگی کے باعث شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر سیکیورٹی کے منصوبوں پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔