کراچی کے علاقے موچکو مشرف کالونی میں حاملہ خاتون عائشہ کے قتل کا معما پولیس نے حل کرلیا، جس میں مقتولہ کے کرایہ دار میاں بیوی ملوث نکلے۔
انویسٹی گیشن ڈسٹرکٹ کیماری پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
قتل کی واردات اور اعتراف جرم
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت نواب خان ولد احمد علی اور اس کی اہلیہ رخسانہ کے نام سے ہوئی ہے۔ تفتیش کے دوران دونوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے زیورات اور رقم چھیننے کی نیت سے عائشہ کو قتل کیا۔ واردات کے وقت مقتولہ عائشہ گھر میں اکیلی تھی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمہ رخسانہ نے گھر میں داخل ہو کر اسے قابو کیا، جبکہ نواب خان نے تشدد کرکے قتل کردیا۔
قتل کی وجہ اور پولیس تحقیقات
پولیس کے مطابق ملزمہ رخسانہ کا مقتولہ عائشہ کے گھر آنا جانا تھا، جس کی وجہ سے وہ جانتی تھی کہ گھر میں قیمتی زیورات اور نقدی موجود ہے۔ زیورات اور پیسوں کی لالچ میں دونوں میاں بیوی نے واردات کا منصوبہ بنایا۔ قتل کے بعد وہ مقتولہ کے پہنے ہوئے طلائی زیورات لے کر فرار ہوگئے۔
مقتولہ کی حالت اور ورثا کا مطالبہ
مقتولہ عائشہ 8 ماہ کی حاملہ تھی، جس کے قتل نے اہلخانہ کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ مقتولہ کے ورثا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کو قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔