سیدہ سونیا عمران
پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کی پالیسی پر کاربند رہا ہے۔ جب بھی خطے میں کشیدگی پیدا ہوئی، پاکستان نے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیا۔ حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر بھارت کی جانب سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے، جنہیں پاکستان نے واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے حقائق پر مبنی مؤقف دنیا کے سامنے پیش کیاپاکستانی قیادت کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک پر بغیر شواہد الزامات عائد کرنا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے خطے کے امن کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ پاکستان بارہا اس بات کا اعادہ کر چکا ہے کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور اس کے خلاف عالمی برادری کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، تاہم بے بنیاد پروپیگنڈے کو قبول نہیں کیا جا سکتاخطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں۔ مسائل کا حل الزام تراشی یا اشتعال انگیز بیانات میں نہیں بلکہ مذاکرات، اعتماد سازی اور سفارتی روابط میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو جنوبی ایشیا میں ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ اپنے مؤقف کو دلیل، شواہد اور ذمہ دار سفارت کاری کے ذریعے پیش کیا ہے۔ ملکی قیادت کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کسی بھی تنازعے کے حوالے سے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور حقائق پر مبنی فیصلوں کو ترجیح دے تاکہ انصاف اور شفافیت کو فروغ مل سکے ملکی دفاع اور قومی سلامتی پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ملک کی پالیسی جنگ نہیں بلکہ امن اور استحکام ہے۔ مضبوط دفاع کے ساتھ ساتھ پرامن بقائے باہمی کا نظریہ ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا کو اس وقت معاشی تعاون، تجارت، تعلیم، صحت اور عوامی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر وسائل کو تنازعات کے بجائے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے تو خطے کے کروڑوں عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے قومی یکجہتی ایسے مواقع پر مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ اختلافات کے باوجود جب پوری قوم ملکی مفادات، خودمختاری اور سلامتی کے معاملے پر متحد ہو جاتی ہے تو بیرونی دباؤ اور منفی پروپیگنڈا اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ یہی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست اور امن پسند ملک ہے۔ وہ خطے میں کشیدگی کے بجائے امن، مذاکرات، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔ مستقبل کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریق تحمل، دانشمندی اور سفارتی ذرائع کو اختیار کریں تاکہ جنوبی ایشیا کو ایک محفوظ، پرامن اور خوشحال خطہ بنایا جا سکے۔