مدثر مسعود چودھری
پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے قومی سلامتی، دفاعی خودمختاری، خطے میں امن کے فروغ اور عالمی ذمہ داریوں کے درمیان ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوششوں کا نام رہی ہے اور اگر اس پالیسی کے سب سے بڑے امتحان کی بات کی جائے تو وہ بلا شبہ پاک بھارت تعلقات ہیں جو تقسیم ہند کے بعد سے مسلسل پیچیدگیوں، تنازعات اور کشیدگیوں سے عبارت ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ ان تعلقات کی بنیاد میں موجود سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس نے برصغیر کے دو ایٹمی ہمسایوں کو کئی بار جنگ کے دہانے پر پہنچایا اور کبھی کبھی جنگ میں دھکیل بھی دیا۔ پاکستان ہمیشہ اس اصولی مؤقف پر قائم رہا ہے کہ کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ایک ناگزیر حقیقت ہے، دوسری طرف بھارت نے ہمیشہ اس مسئلے کو ایک دوطرفہ تنازع قرار دے کر بین الاقوامی برادری کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے اور یہی رویہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو مزید بڑھاتا رہا ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روح کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنا اور اسے عالمی ضمیر کی عدالت میں لے جانا ہے تاکہ دنیا یہ سمجھے کہ جنوبی ایشیا میں امن کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک کہ کشمیری عوام کو انصاف اور آزادی نہ ملے۔ پاکستان نے نہ صرف سفارتی محاذ پر یہ آواز بلند کی ہے بلکہ اپنے عوام کے دلوں میں بھی یہ عہد تازہ رکھا ہے کہ کشمیر کے بغیر پاک بھارت تعلقات میں استحکام ناممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات میں دہشت گردی کے الزامات اور سلامتی کے خدشات نے بھی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ بھارت مسلسل پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگاتا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار خود پاکستان ہے جس نے ہزاروں جانوں کی قربانی دی، اپنی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا اور امن کے قیام کے لیے دنیا کے ساتھ کھڑا رہا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کیے اور خطے کو اس عفریت سے پاک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، لیکن بھارت کی الزام تراشیوں نے باہمی اعتماد کو مزید کمزور کیا اور مذاکرات کی میز پر سنجیدگی کے ساتھ بیٹھنے کی فضا پیدا نہ ہونے دی۔کئی بار امن کے لیے کوششیں ہوئیں، لاہور ڈیکلیریشن، آگرا مذاکرات اور جامع ڈائیلاگ جیسے اقدامات کیے گئے لیکن کارگل جنگ، ممبئی حملے، پٹھان کوٹ اور پلوامہ جیسے واقعات نے ہر بار ان کوششوں کو سبوتاڑ کر دیا۔ اس کے باوجود پاکستان کی خارجہ پالیسی امن کے دروازے کو کبھی بند نہیں کرتی اور ہمیشہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ مذاکرات ہی وہ واحد راستہ ہیں جن کے ذریعے دیرپا امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی موجودہ حکومت نے بھی یہی پیغام دیا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ان مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے کا لازمی حصہ بنایا جائے، ورنہ محض نمائشی ملاقاتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریروں اور بیانات میں بار بار یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں جنگ نہیں چاہتا بلکہ امن چاہتا ہے اور یہ امن صرف انصاف کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دوسری طرف پاکستان کی دفاعی پالیسی بھی خارجہ پالیسی کا ایک لازمی جزو ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس نے یہ طاقت جنگ کے لیے نہیں بلکہ اپنی سلامتی اور امن کے تحفظ کے لیے حاصل کی ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے یہ پیغام واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، لیکن اس کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ امن قائم رکھنا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اس بات کا مظہر ہے کہ ملک اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی قوم کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا ہے کہ اصل مقصد جنگ نہیں بلکہ دشمن کو جنگ سے باز رکھنا ہے تاکہ خطے میں امن قائم رہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اقتصادی اور تجارتی پہلو بھی نہایت اہم ہیں۔ اگر بھارت مثبت رویہ اپنائے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں جو نہ صرف غربت کو کم کر سکتے ہیں بلکہ خطے کے عوام کے معیار زندگی کو بھی بلند کر سکتے ہیں۔ لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اور بار بار پیدا کی جانے والی رکاوٹیں ان مواقع کو ضائع کر دیتی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی خارجہ پالیسی اس بات پر قائم ہے کہ تجارتی تعلقات اور اقتصادی تعاون خطے کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔ پاکستان نے کئی بار یکطرفہ رعایتیں دیں، حتیٰ کہ بھارت کو موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ دینے کی تجویز بھی سامنے آئی لیکن بھارت کے غیر لچکدار رویے نے ان کوششوں کو ناکام بنایا۔ پاکستان کی موجودہ قیادت نے عالمی برادری کے سامنے یہ موقف رکھا ہے کہ خطے میں غربت کے خاتمے اور ترقی کے لیے دونوں ممالک کو اپنے اختلافات ختم کرنے ہوں گے اور ایک نئے باب کا آغاز کرنا ہوگا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی عالمی سطح پر بھی متوازن رویہ اختیار کرتی ہے۔ امریکہ، چین، روس اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو اس انداز میں استوار کیا جا رہا ہے کہ عالمی طاقتیں جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان بار بار عالمی برادری سے اپیل کرتا رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ اس کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں اور عالمی اصول پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہیں، لیکن بھارت ان سے پہلوتہی کر کے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کے باوجود کشمیری عوام کو ان کا حق نہیں دیتا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس تضاد کو دنیا کے سامنے لاتی ہے اور یہ باور کراتی ہے کہ اگر بھارت واقعی ایک جمہوری ملک ہے تو اسے کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دینا ہوگا۔پاکستان کی موجودہ قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل آصف منیر نے اپنے حالیہ فیصلوں اور اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان امن کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھتا ہے۔ ہم اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ کوئی دشمن ہمیں کمزور نہ سمجھے لیکن ہماری اولین ترجیح ہمیشہ امن، ترقی اور سفارت کاری ہی رہے گی۔ پاکستان کی پالیسی میں یہ تسلسل واضح ہے کہ ہم کشمیری عوام کی جدوجہد کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور سمجھتے ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے، ساتھ ہی یہ بھی عزم رکھتے ہیں کہ ہم دشمنی کے بجائے تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بار بار مذاکرات کی پیشکش کی اور عالمی برادری کو اس میں شامل کرنے کی کوشش کی۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی مثبت تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ بھارت کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان تنہا نہیں بلکہ ایک مضبوط اور قابل اعتماد ملک ہے۔ پاکستان کے عوام بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ امن ہی ترقی کا راستہ ہے اور اسی سوچ کو خارجہ پالیسی میں ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان کی موجودہ پالیسی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ دفاع وطن اور امن دونوں ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ ایک طرف ہم اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھا رہے ہیں تاکہ کوئی دشمن جارحیت کی جرات نہ کر سکے اور دوسری طرف ہم مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں اعتماد سازی کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور قیادت کا مشترکہ پیغام یہی ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ مسئلہ کشمیر ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور اس پر کسی قسم کی غفلت یا کمزوری ممکن نہیں۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اس اداریے نما جائزے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہماری پالیسی امن، انصاف خودمختاری، دفاع اور ترقی کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہی اصول پاکستان کو آگے بڑھانے کی ضمانت ہیں اور یہی اصول خطے کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہیں۔