خودمختاری کا بھاؤ

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اگربیرونی سرمایہ سرکاری آمدن میں حصہ ڈالے توچھوٹی آبادی کیلئے خدمات مہیاکرناآسان ہوسکتاہے لیکن شہریت کامعاملہ صرف تجارتی لین دین نہیں؛اس میں شناخت کی جانچ، مالی شفافیت،سلامتی اورمقامی شہریوں کے حقوق بھی شامل ہیں۔آمدن کاایک ایساذریعہ جس کے قواعدبیرونی دباؤسے بدل سکتے ہوں،مستقل مالی بنیادنہیں بن سکتا۔اس کاروبار کو برقراررکھنے میں مقامی حکومت اورسرمایہ کارکامفادمشترک ہوسکتاہے،مگرعوامی فائدہ تبھی یقینی ہوگاجب حاصل رقم اوراس کے استعمال کاواضح حساب موجودہو۔
چوتھی سب سے اہم مرکزی وجہ سفارتی ووٹ اورسیاسی اثراقوام متحدہ کاووٹ ہے۔جنرل اسمبلی میں رکن ریاست کاووٹ آبادی کے تناسب سے نہیں گناجاتا؛اسی لیے چھوٹی ریاست بھی اہم سفارتی تعدادکاحصہ بن سکتی ہے۔اسے ووٹ کی منڈی کہاجاتاہے اورسالانہ50سے100ملین ڈالر،سڑک یااسٹیڈیم کے بدلے حمایت حاصل کرنے کاتصور پیش کیاجارہاہے۔اس تعبیر میں مالی انحصاراورسیاسی سودے بازی بنیادی عوامل ہیں۔تاہم ہرامدادی رقم کوکسی مخصوص ووٹ کی ثابت شدہ قیمت کہنا الگ شہادت مانگتاہے۔
یہ فرق ملحوظ رکھتے ہوئے مضمون کااصل وزن محفوظ رہتاہے۔جب ضروری خدمات بیرونی مالی مددسے وابستہ ہوں تو حکومت اختلاف کی قیمت سے ڈرسکتی ہے۔دوسری طرف چھوٹی ریاست اپنی اہمیت پہچان کربہترشرائط حاصل کرنے کی کوشش بھی کرسکتی ہے۔اس تعلق میں صرف کمزورکی مجبوری نہیں،اس کی مذاکراتی صلاحیت بھی کام کرتی ہے۔عالمی دوہرامعیارتب نمایاں ہوتاہے جب طاقتورکی ایسی سودے بازی قومی مفادکہلاتی ہے اورکمزورکااسی نوع کااقدام فورابے اصولی قرارپاتاہے۔
ووٹ کے ساتھ دوسرااثاثہ  قومی پرچم ہے۔بحری جہازکامالک ایک ملک میں اورجہازکی رجسٹریشن دوسرے میں ہوسکتی ہے۔ پاناما،لائبیریااورمارشل آئی لینڈزاسی بحث کی مثالیں ہیں۔70فیصد تجارتی جہازسالانہ دس سے بیس ہزارڈالررجسٹریشن فیس اداکرتے ہیں۔مختلف پیمانوں اوررجسٹروں کویکجاکرنے والے ان اعدادکوفراہم کردہ عمومی تصویرکے طورپرپڑھنا چاہیے،تمام بحری تجارت کی قطعی شرح کے طورپرنہیں۔اس انتظام کامقصدکم لاگت،انتظامی سہولت یامختلف ضابطوں سے فائدہ اٹھاناہوتاہے؛بعض معاملات میں دوسرے پرچم سے ہرٹیکس اورقانونی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ پھربھی اصل اعتراض برقرارہے کہ ملکیت،رجسٹریشن اورکاروبارمختلف سرحدوں میں تقسیم ہوں تومزدورکے حقوق اور حادثے کی ذمہ داری کاتعین مشکل ہوجاتاہے۔پرچم ریاست کیلئے آمدن لاتاہے، مالک کوسہولت دیتاہے،اورنگرانی مثرنہ ہوتواجتماعی نقصان کاامکان بھی بڑھاتاہے۔یہی معاشی فائدے اورجوابدہی کے درمیان بنیادی کشمکش ہے۔
چین تائیوان اورفلسطین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔چین اورتائیوان کے مقابلے میں وانواتو،سولومن آئی لینڈزاورکیریباتی کے ترقیاتی منصوبوں کوسفارتی وفاداری سے جوڑتی ہے۔سرمایہ کاری تعلقات کی سمت بدلنے کاذریعہ بن سکتی ہے۔اس تجزیے میں سفارتی شناخت کی اہمیت بالکل بجاہے،لیکن تمام مذکورممالک کی تاریخ اورفیصلے یکساں نہیں۔کسی مخصوص تبدیلی کوسمجھنے کیلئے اعلان،معاہدہ اوروقت الگ دیکھناہوگا۔تائیوان کے باقی حلیفوں کی اصل متن والی تعدادبھی اسی تحریرکے زمانی تناظرکی بات ہے،مستقل تعداد نہیں۔
فلسطین کے معاملے میں مائیکرونیشیا،مارشل آئی لینڈز،پالااورناوروکے بعض مقفوں کوامریکی اثرسے تعبیرکیاجارہاہے۔ یہ عالمی طاقت اورانسانی اصول کے تعلق پرسخت سوال ہے ، اقوام متحدہ میں ہرقراردادمیں انہی ممالک کاایک ہی ووٹ ہونا عالمی صورتحال بدل دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔ مدادی اورسلامتی کے تعلقات سفارتی ترجیح پراثرڈال سکتے ہیں؛ براہ راست مالی خریداری کادعوی اس سے آگے ہے۔انسانی جان کے تحفظ میں دوہرامعیارثابت کرنے کیلئے ان ممالک کاووٹنگ ریکارڈکافی مضبوط بنیادہے،اسے غیرثابت شدہ قیمتوں سے کمزورکرنے کی ضرورت نہیں۔
ایک مزیداعتراض یہ ہے کہ تووالواورمالدیپ جیسے ممالک کی موسمیاتی امدادکوسیاسی حمایت سے مشروط کیاجاسکتاہے۔ اس امکان کواس کے تجزیے کے طورپربرقراررکھنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کم بلندی والے جزیروں کیلئے اسے حقیقی وجودی خطرہ کوتسلیم کرتاہے۔گھر،میٹھاپانی،کھیت اوراجتماعی یادیں ایک ساتھ خطرے میں آسکتی ہیں۔اصل تنقیدآفت پرنہیں ، امدادکو مفادکے تابع بنانے اوروعدے کے باوجودوسائل نہ پہنچانے پرہے۔
ان تمام مندرجہ بالانکات کی روشنی میں پاکستان کیلئے کیاعملی اسباق ہیں۔پاکستان کیلئے پہلا سبق یہ ہے کہ قومی اثاثے کا فائدہ شہری تک پہنچناچاہیے۔چھوٹے جزیرے کے ووٹ اورہماری سیاسی جماعتوں کے سودوں کاتقابل اس مثال سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہرجزیرے کی امدادلازماہسپتال بن جاتی ہے اورپاکستان کی ہرمددذاتی جیب میں جاتی ہے،ایسا عمومی فیصلہ نہیں کیاجاسکتا۔قابل عمل معیاریہ ہے کہ معاہدے سے عوام کوکیاملا،رقم کہاں خرچ ہوئی اورذمہ دارسے حساب کس نے لیا۔قومی مفادکادعوی اس جانچ کے بغیرمحض نعرہ رہتاہے۔
دوسرا سبق قرض کی شفافیت اورپیداواری استعمال ہے۔ستمبر2024میں پاکستان کیلئے تقریبا7/ارب ڈالرکا37ماہ کاآئی ایم ایف پروگرام منظورہوا۔مالی سہاراادائیگیوں کی فوری مشکل کم کرسکتاہے،مگرمسلسل قرض تبھی گھٹے گاجب آمدن اورپیداوار بڑھیں۔ہربڑے قرض کی شرائط،ادائیگی کاشیڈول اورمجوزہ استعمال پارلیمان اورعوام کے سامنے ہونا چاہیے۔منصوبہ مکمل ہونے پراس کی حاصل کردہ پیداواریابچت بھی ناپی جائے،تاکہ نئی ادائیگی کیلئے نیاقرض مستقل قومی عادت نہ بنے۔
تیسراسبق منصفانہ محصولات اوراخراجات کانظم ہے۔اصلاح کابوجھ ہرمرتبہ عام شہری کے بل پرڈالناآسان ہے،لیکن دیرپا حل نہیں۔بااثرطبقوں کی رعایتیں،ناقص وصولی اورغیر ضروری حکومتی اخراجات بھی جانچ کے تابع ہوں۔ٹیکس کااخلاقی جوازتب مضبوط ہوتاہے جب قانون سب پریکساں نافذہواورشہری کوتعلیم،علاج اورتحفظ کی بہترصورت دکھائی دے۔معاشی حساب درست کرنے کے ساتھ سماجی انصاف محفوظ نہ ہوتواصلاح اعتمادپیداکرنے کی بجائے فاصلے بڑھاتی ہے۔
چوتھاسبق دفاعی قوت کے ساتھ انسانی اورمعاشی قوت کی تعمیرہے۔ایٹمی صلاحیت سلامتی میں اہم ہے،لیکن استاد،ہنرمند کارکن،تحقیق،معتبرعدالت اورقابل اعتمادبجلی کابدل نہیں۔ برآمدات بڑھانے کیلئے معیار،مسابقت،مستقل قواعداورچھوٹے کاروبارکی سہولت ضروری ہے۔توانائی کے نقصانات اورانتظامی ناکامیوں کاعلاج پیداوارکی شرط ہے۔لڑکیوں کی تعلیم، بنیادی خواندگی،غذائیت اورعلاج میں سرمایہ کاری قوم کی مستقبل کی آمدن بڑھاتی ہے؛انہیں بجٹ کی بچی ہوئی رقم کا مصرف سمجھناآزادی کی بنیادکمزورکرتاہے۔
پانچواں سبق سیاسی اتحادوں کی جواب دہی ہے۔مصنوعی قیادتوں،تانگہ پارٹیوں اورنویااٹھارہ ستارہ اتحادوں کااستعارہ ہمارے سامنے ہے۔اس احتجاج کاہدف ایسی سیاست ہے جوعوامی پروگرام کی بجائے چندنشستوں اورعہدوں کے سودے پرقائم ہو۔ چھوٹی جماعت علاقائی یااصولی نمائندگی بھی کرسکتی ہے؛اس لیے معیارحجم نہیں،کردارہوناچاہیے۔ اتحادکا مشترکہ پروگرام، جماعتوں کی مالی اعانت اورنمائندوں کے بڑے فیصلوں کی وجوہ واضح ہوں،تاکہ ووٹرکی دی ہوئی طاقت بندکمروں میں ذاتی فائدے کاوسیلہ نہ بنے۔
چھٹاسبق اصولی اورمتنوع سفارتکاری ہے۔پاکستان چھوٹی ریاستوں کوحقیرسمجھنے کی بجائے برابرکے تعلقات قائم کرے، مشترکہ موسمیاتی مسائل پرتعاون بڑھائے اورمالی تعاون کی منصفانہ شرائط کی حمایت کرے۔کسی ایک بیرونی سرپرست پر ضرورت سے زیادہ انحصارمذاکرات کااختیارمحدودکرتاہے۔اندرون ملک قانون،شہری وقاراوراختلاف رائے کا احترام بیرونی اخلاقی مؤقف کومعتبربناتاہے۔خودمختاری کی حفاظت صرف مخالف پراعتراض سے نہیں،اپنے فیصلے کی قیمت برداشت کرنے اوراس کاحساب دینے کی صلاحیت سے ہوتی ہے۔
عالمی سیاست کے دوہرے معیارسے آنکھ نہیں چرائی جاسکتی،مگرپاکستان کی تقدیرکومکمل طورپردوسروں کے ہاتھ میں سمجھنابھی درست نہیں۔ہمیں مفادات کے پوشیدہ تعلقات دکھاتی ہے؛ان تعلقات کوسمجھ کرقومی وسائل کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔اصل سبق اپناووٹ یاپرچم بیچنانہیں،ان کے پیچھے موجودانسانی امانت کی قدرکرناہے۔باوقارآزادی تب بنتی ہے جب قوم اپنے بچوں کیلئے فیصلے کرسکے،ان فیصلوں کاحساب دے اورانہیں قرض،بے یقینی اوربے اختیارسیاست سے بہتر مستقبل سونپے۔