بجلی کون کھا گیا 9گھنٹے لوڈ شیڈنگ‘شہریوں کا راتیں جاگ کربراحال حکومت ریلیف دینے میں ناکام

بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ  سے زائد ہوگیا‘بجلی کی مجموعی طلب 25 ہزار 500 میگاواٹ تک پہنچ گئی:پاور ڈویژن
توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے  متبادل پلان پر کام شروع، دن میں اضافی بجلی سٹور کرنے کیلئے بیٹری انرجی سسٹم کا سہارا لینے کا فیصلہ
اسلام آباد (آن لائن‘آئی این پی) ملک میں بجلی کی طلب میں مسلسل اضافے کے باعث بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرگیا، جس کے نتیجے میں شہری اور دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔ ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی مجموعی طلب 25 ہزار 500 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہائیڈل سمیت مختلف ذرائع سے بجلی کی پیداوار تقریباً 19 ہزار 500 میگاواٹ ہے۔ذرائع کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر تقسیم کار کمپنیاں لوڈ مینجمنٹ کر رہی ہیں، جبکہ ڈسکوز کو دستیاب کوٹے کے مطابق بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔پاور ڈویڑن ذرائع کا کہنا ہے کہ شارٹ فال کے باعث شہری علاقوں میں 6 سے 9 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 10 سے 13 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ جاری ہے، جس سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔حکومت نے توانائی بحران اور لوڈشیڈنگ سے بچنے کیلئے وزارت توانائی نے متبادل پلان پر کام شروع کردیا۔ دن میں اضافی بجلی سٹور کرنے کیلئے بیٹری انرجی سسٹم کا سہارا لینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ذرائع وزارت توانائی کے مطابق 10 میگا واٹ تک کی بیٹریاں ڈسکوز کے گرڈ اسٹیشن پر انسٹال کرنے کا پلان ہے، ان بیٹریز میں سٹور ہونے والی بجلی کو رات کے وقت میں استعمال میں لایا جائے گا۔بیٹری انسٹالیشن کے لیے آئندہ دو ہفتوں میں باقاعدہ بڈنگ کی جائے گی