سیاسی جماعت کا کہنا کہ ٹرمپ آئے گا تو انکے لیڈر کو آزاد کرائے گا، کسی لطیفے سے کم نہیں، احسن اقبال

سیاسی جماعت کا کہنا کہ ٹرمپ آئے گا تو انکے لیڈر کو آزاد کرائے گا، کسی لطیفے سے کم نہیں، احسن اقبال

ویب ڈیسک:مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے حالیہ بیان میں سیاسی جماعتوں کے دعووں پر تنقید کی ہے، خاص طور پر ان دعووں پر جن میں کہا گیا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہوئے تو وہ پاکستان میں قید سیاسی رہنماؤں کو آزاد کرائیں گے۔

 احسن اقبال نے اس بیان کو "لطیفہ" سے تشبیہ دی اور کہا کہ اس طرح کے دعوے حقیقت سے بہت دور ہیں۔انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ ٹرمپ کا دوبارہ صدر منتخب ہونا امریکی عوام کا فیصلہ ہے اور اس فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے، لیکن پاکستان میں قومی اداروں کی عزت اور ان کی آزادی کے بارے میں کسی بھی سمجھوتے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔احسن اقبال نے تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ ہوا بازی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں قومی مفاد کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا اور سیاسی فائدے کے لیے قومی اداروں کو کم قیمت پر بیچنے کی کوشش کی گئی، جو کہ ناقابل قبول ہے۔

اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں حالیہ الاؤنسز کے حوالے سے وزیرِ قانون کو جواب دینا چاہیے، اور وزیرِ اعظم جلد ہی پانچ سالہ معاشی روڈ میپ کا اعلان کرنے والے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کی تشکیل میں کسی بیرونی جج کو شامل نہیں کیا گیا، بلکہ یہ بینچ صرف سپریم کورٹ کے موجودہ ججوں پر مشتمل ہے۔ان بیانات میں احسن اقبال نے تحریک انصاف کی پالیسیوں اور اقدامات پر شدید تنقید کی، اور مسلم لیگ ن کی حکومت کی سمت کو بہتر اور قومی مفادات کے حق میں قرار دیا۔