لگتا ہے بھارت سمندر کے راستے کوئی فالس فلیگ آپریشن کریگا ترجمان پاک فوج

پاکستان کی سکیورٹی کی ضامن مسلح افواج ہیں‘ یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی‘افغانستان میں ڈرون حملوں کے حوالے سے ہمارا امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں، طالبان نے کوئی باضابطہ شکایت نہیں کی،دہشتگردی کا خاتمہ اہم ہے
 دہشت گردوں سے کبھی بات نہیں ہوگی، افغان طالبان کو پاکستان کا رسپانس فوری اور موثر تھا، پاکستان کے رسپانس کے وہی نتائج نکلے جو ہم چاہتے تھے،غزہ امن فوج کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی
پاکستان پالیسی بنانے میں خودمختار اور  سرحدوں اور عوام کی حفاظت کیلئے تیار ہے ، گورنر راج سے متعلق فیصلے کا دائرہ اختیار حکومت کے پاس ہے، فوج سیاست میں الجھنا نہیں چاہتی:لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری  کی سینئر صحافیوں کو بریفنگ
راولپنڈی(آئی  این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے   لگتا ہے  بھارت سمندر کے راستے کوئی فالس فلیگ آپریشن کرے گا‘پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیںدینی ،غزہ امن فوج کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں  نے  کہا کہ پاکستان نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا، ہماری طالبان گروپوں کے ساتھ لڑائی ہے، ٹی ٹی پی ،بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی۔ڈرون کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارا امریکا سے کوئی معاہدہ نہیں، ڈرون کے حوالے سے طالبان رجیم کی جانب سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی، استنبول میں طالبان کو واضح بتایا ہے کہ دہشت گردی آپ کو کنٹرول کرنی ہے اور یہ کیسے کرنی ہے یہ آپ کا کام ہے، یہ ہمارے لوگ تھے جب یہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا یہ بھاگ کر افغانستان چلے گئے، ان کو ہمارے حوالے کردیں ہم ان کو آئین اور قانون کے مطابق ڈیل کریں گے۔ افغانستان کی شرائط معنی نہیں رکھتی، دہشتگردی کا خاتمہ اہم ہے۔ دہشت گردوں سے کبھی بات نہیں ہوگی۔ افغان طالبان کو پاکستان کا رسپانس فوری اور موثر تھا۔ پاکستان کے رسپانس کے وہی نتائج نکلے جو ہم چاہتے تھے۔پاک افغان جھڑپوں میں 206 افغان طالبان فوجی اور 112 خوارج مارے گئے۔انھوں نے کہا کہ افغانستان سے جڑے معاملات کا حل صرف وہ حکومت ہے جو عوام کی نمائندہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی، جرائم پیشہ افراد اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ ہے، یہ لوگ افیون کاشت کرتے ہیں اور 18 سے 25 لاکھ روپے فی ایکڑ پیداوار حاصل کرتے ہیں، پوری آباد ی ان لوگوں کے ساتھ مل جاتی ہے، وار لارڈز ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، یہ حصہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور وار لارڈز کو جاتا ہے، یہ لوگ اس طرح مل کر کام کرتے ہیں اور پیسے بناتے ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فوج کے اندر کوئی عہدہ کریئیٹ ہونا ہے تو یہ حکومت کا اختیار ہے ہمارا نہیں ہے۔انھوں نے کہا  کہ غزہ امن فوج کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔ پاکستان پالیسی بنانے میں خودمختار اور اپنی سرحدوں اور عوام کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ گورنر راج سے متعلق فیصلے کا دائرہ اختیار حکومت کے پاس ہے۔ فوج سیاست میں الجھنا نہیں چاہتی، فوج کو اس سے دور ہی رکھا جائے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ تیراہ اور کے پی میں خفیہ اطلاعات پر آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں۔ فتنہ الخوارج کیخلاف آپریشن میں 1667 دہشتگرد مارے گئے۔ تاہم سیاسی جرائم پیشہ اور دہشتگرد گروپس ملک میں جرائم اور اسمگلنگ روکنے میں رکاوٹ ہیں۔