1000ارب کا ترقیاتی بجٹ منظور ہماری توجہ معیشت مضبوط بنانے پر ہے:شہبازشریف
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں ہوا‘وزیراعلی پنجاب مریم نواز، سی ایم بلوچستان سرفراز بگٹی، وزیر اعلی کے پی علی امین، سی ایم سندھ مراد شاہ شریک ہوئے‘ بلوچستان میں این 25 کیلئے بجٹ میں کٹوتی
بھارت نے ثبوت دینے کے بجائے جارحیت کی،پاکستان نے تناؤ کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، خطے میں جنگ بندی پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشکور ہیں: شہباز شریف کا،امریکی سفارتخانے میں تقریب سے خطاب
ریلوے نظام کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،علاقائی تجارت و روابط کیلئے ریلوے کو
جدید بنیادوں پر ترقی دینا قومی پالیسی کا اہم جز ہے : ریلویز سے متعلق امور پر اجلاس میں گفتگو
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل میں ایک ہزار ارب روپے کا وفاقی ترقیاتی بجٹ منظور کرلیا گیا۔رپورٹ کے مطابق قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کیلئے 4.2 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی منظوری دی۔ذرائع پلاننگ کمیشن نے کہا کہ بلوچستان میں این 25 کیلئے بجٹ میں کٹوتی کر دی گئی۔این 25 کیلئے 120 ارب کی بجائے 100 ارب روپے کا پیکج منظور ہوا، جب کہ برآمدات کا ہدف 35 ارب ڈالر مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئیاجلاس میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں بجٹ اہداف کی منظوری کے حوالے سے غور کیا گیا۔اجلاس میں قومی ترقیاتی پلان، پی ایس ڈی پی، میکرو اکنامک اہداف کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں نئے مالی سال کی معاشی شرح نمو، زراعت، صنعت، سروسز سیکٹر کے اہداف کی منظوری سے متعلق مشاورت کی گئی۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے ثابت ہوگیا پہلگام واقعہ فالس فلیگ آپریشن تھا، بھارت دنیا کے سامنے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، بھارت نے ثبوت نہ دیے بلکہ جارحیت کا ثبوت دیا، پاکستان نے تناؤ کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، امریکی صدر نے ثابت کیا وہ امن کے پیامبر ہیں، خطے میں سیز فائر پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشکور ہیں۔امریکا کی یومِ آزادی تقریب میں شرکت کے لیے وزیراعظم شہبازشریف امریکی سفارت خانہ پہنچے جہاں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے سفارت خانہ آمد پر وزیراعظم کا استقبال کیا۔اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکا کے 249 ویں یوم آزادی کی مبارکباد دیتا ہوں، دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان اور امریکا کے تعلقات نئے دور میں داخل ہورہے ہیں، پاکستان اور امریکا میں دیرینہ مثبت تعلقات ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملک جمہوری روایات اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، امریکا پاکستان کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل تھا، پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے، پاکستان کی ترقی کے لیے امریکی منصوبے قریبی تعلقات کے عکاس ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے کی غیرجانبدارنہ تحقیقات کی پیشکش کی، ہماری پیشکش کے جواب کے بجائے بھارت نے جارحیت کی، پاکستان نے کشیدہ صورتحال میں تحمل کا مظاہرہ کیا، بھارت نے جارحیت کرتے ہوئے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا، پاکستان نے جوابی کارروائی میں 6 بھارتی طیارے گرائے۔شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ امریکی دوستوں نے پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے رابطہ کیا، 9 اور 10 مئی کی رات بھارت نے ایک بار پھر جارحیت کی، پاکستان نے خطے کے امن کے لیے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، جنگ بندی کے لیے صدر ٹرمپ کے اہم کردار کو سراہتے ہیں، امن کے فروغ کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔
علاوہ ازیں شہباز شریف نے کہا ہے ریلوے نظام کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ملکی معاشی اور صنعتی ترقی کے لئے ملک بھر کے ریلوے انفراسٹرکچر کی پائیدار بنیادوں پر تعمیر نو کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت پاکستان ریلویز سے متعلق امور پر اجلاس ہوا۔وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی جانب سے وزیر اعظم کو پاکستان ریلویز میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستاں ریلویز میں مزید سرمایہ کاری کی بے پناہ استطاعت ہے، بڑے اور اہم ریلوے اسٹیشنز پر جدید انفارمیشن ڈیسکس بنائے جا رہے ہیں۔لاہور، راولپنڈی اور ملتان کے ریلوے اسٹیشنز پر صفائی ستھرائی کا نظام آٹ سورس کیا گیا ہے، ٹرینز اور ریلوے اسٹیشنز میں فراہم کی جارہی خوراک کی نگرانی کے حوالے سے ریلویز اور صوبائی فوڈ اتھارٹیز مل کر کام کر رہی ہیں۔عوام کی سہولت کے لئے عرصہ دراز سے بند سروسز کا دوبارہ آغاز کیا گیاہے ؛ بولان میل کو حال ہی میں روزانہ سروس کی بنیاد پر شروع کیا گیا ہے جبکہ ڈیرہ غازی خان اور خوشحال خان خٹک ایکسپریس کو بھی بحال کیا گیا ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ منصوبے ریلوے کی سکھر، خانیوال اور کوہاٹ میں موجود کنکریٹ سلییپر فیکٹریز کو آٹ سورس کیا جا رہا ہے۔کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ملتان اور سکھر میں موجود ریلوے کے اسپتالوں اسکولوں، کالجوں اور ریسٹ ہاسز کو ریونیو شئیرنگ کی بنیاد پر آٹ سورس کیا جا رہا ہے۔رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب ، لاہور کو نیلام کیا جا رہا ہے جہاں پر فائیو اسٹار ہوٹل قائم ہونے کی تمام تر استطاعت موجود ہے