پاکستان دل و جان سے ایران کیساتھ کھڑا ہے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کررہے ہیں اسحاق ڈار

 ایران خلیجی ممالک پر حملہ نہ کرتا تو ہم تمام اسلامی ممالک کو ساتھ ملا کر اس جنگ کو روکنے کیلئے کام کرتے‘ ہم نے ایران پر حملے کی مذمت کی ہے جس کو ایران نے تسلیم کیا ہے اور ان کی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے لگائے گئے
اتوار کے روز ہم نے فیصلہ کیا  اس تنازع کو روکنے کیلئے کوششیں کی جائیں‘ ہماری کوششوں سے سعودی عرب اور اومان کے خلاف کم کاروائیاں ہوئی ہیں ‘ہماری بات کو سمجھا گیا‘جو ضمانتیں انہوں نے مانگی ہیں وہ دی گئیں
 ایران اور خلیجی ممالک میں صورتحال ابتر ،خلیجی ممالک میں پینتالیس لاکھ پاکستانی موجود  ہیں‘ وزیراعظم  وزارت خارجہ ، اور فیلڈ مارشل  متعدد ممالک کے سفارتکاروں اور رہنمائوں سے رابطے میں ہیں :سینیٹ میں پالیسی بیان‘پریس بریفنگ
اسلام آباد(آن لائن‘آئی این پی) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران خلیجی ممالک پر حملہ نہ کرتا تو ہم تمام اسلامی ممالک کو ساتھ ملا کر اس جنگ کو روکنے کیلئے کام کرتے‘ ہم نے ایران پر حملے کی مذمت کی ہے جس کو ایران نے تسلیم کیا ہے اور ان کی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے لگے‘ یہ ہمارا احسان نہیں بلکہ ہمارا فرض ہے مگر ملک میں اس کو غلط رنگ دینا درست نہیں‘ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام اور مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ مخلصانہ کوششیں کی ہیں‘ ایران میں پھنسے پاکستانیوں کو نکالنے کیلئے دفتر خارجہ پوری طرح مستعد ہے اور ابتک سینکڑوں پاکستانیوں کو نکالا جاچکا ہے ۔منگل کو ایوان بالا میں ایران کی صورتحال پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے چار دور ہوئے اور مزید ایک دور ہونے والا تھا مگر اس دوران یہ حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے سلامتی کونسل کی میٹنگ 24گھنٹوں کے اندر بلائی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اس موقع پر ایران کے سفیر نے چار ممالک کا شکریہ ادا کیا جس میں پاکستان بھی شامل ہے انہوں نے کہاکہ ایرانی وزیر خارجہ سے بات چیت کی گئی اور پوچھا کہ کیا کریں گے جس پر انہوں نے کہاکہ ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے اور اگر اس کے بعد اسرائیل نے دوبارہ حملہ نہ کیا تو ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں گے جس کے بعد میں نے دیگر ممالک سے رابطہ کیا کہ ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ایران حالت جنگ میں ہے ۔ ہم نے بیک ڈور میں بہت زیادہ سفارت کاری کی ہے اور 12جون کو استنبول میں ایرانی وزیر خارجہ سے بات چیت کی اس وقت فیلڈ مارشل بھی راستے میں تھے اور انہیں بھی استبول بلایا گیا اور 12تاریخ کو ہماری میٹنگ ہوئی ہم نے ایران کو کہاکہ مسائل کو سفارت کاری کے ذریعے حل کریں۔ انہوں نے کہاکہ جولائی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سہہ فریقی مذاکرات کے حوالے سے ایک میٹنگ رکھی جس میں مختلف ایشوز رکھے گئے اور اس کے بعد امریکی حکام کے ساتھ ایران کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ ایران نے یہ مانا تھا کہ ہم ایٹمی ہتھیار نہیں بنائیں گے‘ اگست میں ایران کے صدر اور وزیر خارجہ نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا پاکستان کی کوشش تھی کہ کسی طریقے سے افہام و تفہیم سے یہ مسئلہ حل ہوجائے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے کہاکہ پرامن ایٹمی قوت ہر ملک کا حل ہے اور اس کو تسلیم کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ایران ایک خودمختار ملک ہے اور ہمیں بہت عزیز ہے انہوں نے کہاکہ دو روز قبل ایران نے خلیجی ممالک پر حملے کئے جس کی تفصیل بھی سامنے آچکی ہے اگر ان ممالک پر حملہ نہ ہوتا تو ہم تمام اسلامی ممالک کو ساتھ ملا کر اس جنگ کو روکنے کیلئے کام کرتے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ایران پر حملے کی مذمت کی ہے جس کو ایران نے تسلیم کیا ہے اور ان کی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے لگے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہمارا احسان نہیں بلکہ ہمارا فرض ہے مگر ملک میں اس کو غلط رنگ دینا درست نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے جون میں سلامتی کونسل میں ایک میٹنگ کی اور 12سال کے بعد پہلی دفعہ پاکستان کی کوشش کو تسلیم کیا گیا انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے سفارتی یا بیک ڈور رابطوں میں کوئی کمی نہیں ہے اور وزیر اعظم نے خود ایران کے حکام کے ساتھ بات چیت کی ۔ انہوں نے کہاکہ ستمبر 2025میں ہم چار ممالک نے ایران سے پابندیاں ہٹانے کیلئے کام کیا اور سلامتی کونسل میں دو قراردادیں پیش کیں جس کا ایران نے بہت شکریہ ادا کیا‘ہم نے سلامتی کونسل میں ایک ایمرجنسی میٹنگ کی اسی طرح عرب ممالک کے ساتھ مل کر ہم نے مذاکرات پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ہمیشہ مسلم امہ کیلئے مخلصانہ کوششیں کی ہیں‘اتوار کے روز ہم نے فیصلہ کیا کہ اس تنازعے کو روکنے کیلئے کوششیں کی جائیں۔ ہماری کوششوں سے سعودی عرب اور اومان کے خلاف کم کاروائیاں ہوئی ہیں اور ہماری بات کو سمجھا گیا اور جو ضمانتیں انہوں نے مانگی ہیں وہ دی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ ایران میں پاکستانی زائرین کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اس وقت ٹوٹل 35ہزار پاکستانی ایران میں موجود ہیں چونکہ کمرشل فلائٹس بند ہیں اس وقت تک 792پاکستانیوںکو وہاں سے تفتان سمیت دیگر زمینی راستوں سے نکالے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانیوں کو فوری ویزہ فراہم کیاجارہا ہے اور وہاں پر پاکستانی سفارتخانے دن رات کام کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ ابھی تک 46طلبا کو بھی ایران سے نکالا جاچکا ہے‘دریں اثناء وزارت خارجہ کی سیکرٹری آمنہ بلوچ اور ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار نے کہا ایران اور خلیجی ممالک میں صورتحال ابتر ہے ۔  پاکستانیوں سمیت متعدد ممالک  کے افراد ان ممالک میں پھنسے ہوے ہیں ۔ سعودی عرب اور عمان کے علاوہ تمام فضائی حدود بند ہیں ۔  خلیجی ممالک میں پینتالیس لاکھ پاکستانی موجود ہیں ،   قطر میں ایک پاکستانی میزائل حملے میں شہید ہوا ہے ۔  انخلا کے لئے  معاونت پر سعودی عرب ، آذربائیجان  سمیت  تمام ممالک کے مشکور ہیں ۔ وزارت خارجہ میں کرا ئسز منیجمنٹ یونٹ   چوبیس  گھنٹے فعال ہے ۔