وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم اجلاس اسلام آباد میں شروع ہوگیا ہے، جس میں آئندہ مالی سال 2025-2026 کے لیے ملک کی معاشی سمت کا تعین کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزراء، اور متعلقہ حکام شریک ہیں۔
اجلاس کے اہم نکات:
قومی ترقیاتی بجٹ:
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے قومی ترقیاتی بجٹ تقریباً 4 ہزار ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے لیے 1,000 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ بجٹ انفراسٹرکچر، توانائی، تعلیم، صحت، اور مواصلات سمیت اہم شعبوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے استعمال ہوگا۔
میکرو اکنامک فریم ورک:
اجلاس میں میکرو اکنامک فریم ورک کی منظوری بھی دی جائے گی، جس کے تحت آئندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4.2 فیصد رکھا جا رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح، مالی خسارہ، اور زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے بھی اہداف طے کیے جا رہے ہیں۔
سالانہ پلان:
اجلاس میں سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (APCC) کی سفارشات کا جائزہ لے کر ان کی توثیق کی جائے گی، تاکہ بجٹ سے قبل وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی منصوبے ہم آہنگ ہو سکیں۔
اہمیت:
یہ اجلاس بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں ایک کلیدی قدم ہے، جو نہ صرف حکومت کی ترجیحات کا تعین کرے گا بلکہ عوامی فلاح و بہبود سے جڑے منصوبوں کے لیے وسائل کی تقسیم کو بھی حتمی شکل دے گا۔