وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اقتصادی اجلاس، معاشی اہداف طے کیے جائیں گے

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اقتصادی اجلاس، معاشی اہداف طے کیے جائیں گے

قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم اجلاس آج 4 جون 2025 کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

 اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ—مریم نواز (پنجاب)، سرفراز بگٹی (بلوچستان)، علی امین گنڈاپور (خیبر پختونخوا)، اور مراد علی شاہ (سندھ)—کے علاوہ گلگت بلتستان کے نمائندے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے اہم نکات:
قومی ترقیاتی بجٹ: آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے قومی ترقیاتی بجٹ تقریباً 4,000 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت 1,000 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے.
میکرو اکنامک فریم ورک: اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے میکرو اکنامک فریم ورک کی منظوری دی گئی، جس میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4.2 فیصد، افراط زر کا ہدف 7.5 فیصد، اور دیگر معاشی اشاریے شامل ہیں.
ترقیاتی منصوبے: اجلاس میں مختلف شعبوں کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن میں زراعت، صنعت، خدمات، توانائی، بنیادی ڈھانچے، اور سماجی ترقی کے منصوبے شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لیے 302 ارب روپے، داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 20 ارب روپے، دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 35 ارب روپے، اور کراچی کے کے-فور منصوبے کے لیے 9.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
صوبائی ترقیاتی بجٹ: اجلاس میں صوبوں کے لیے ترقیاتی بجٹ کی بھی منظوری دی گئی، جس میں پنجاب کے لیے 1,188 ارب روپے، سندھ کے لیے 887 ارب روپے، خیبر پختونخوا کے لیے 440 ارب روپے، اور بلوچستان کے لیے 280 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں.
وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس میں کہا کہ حکومت موجودہ وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنائے گی اور معیشت کے حوالے سے تمام اہم فیصلوں میں وفاق، صوبوں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت یقینی بنائے گی تاکہ ملکی ترقی کے لیے اجتماعی بصیرت کے نتیجے میں ایسے فیصلے کیے جائیں جو مثبت ہوں اور سب کی رضامندی شامل ہو۔ یہ اجلاس آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے، جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا گیا ہے تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔