اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ میڈیا بریفنگ میں بھارت کے ساتھ کشیدگی، سفارتی کامیابیوں اور علاقائی تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی۔
بھارت کے ساتھ کشیدگی اور سفارتی موقف
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولا، اور اب بھارت میں پاکستان کی سفارتی کامیابی پر صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی برادری پاکستان کے موقف کو سمجھ رہی ہے، اور چین نے پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔
چین اور افغانستان کے ساتھ تعلقات
اسحاق ڈار نے بتایا کہ حالیہ دورے کے دوران چینی وزیر خارجہ کے ساتھ باہمی ملاقات ہوئی، اور چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ سہ فریقی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ 10 مئی کے بعد چین کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تھا۔
ترکیہ اور ایران کے ساتھ روابط
وزیر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی ترکیہ میں دو طرفہ ملاقاتیں بہت اچھی رہیں، اور ترکیہ کے صدر نے اچھا کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران میں ملاقاتوں میں دونوں ممالک کا موقف یکساں تھا، اور کوئی اختلاف نہیں تھا۔
بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، اور پاکستانی کاروباری برادری بھارت کے ساتھ تجارت کی بحالی کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے ہمسایہ تعلقات چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے بھارت کو بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مؤثر انداز میں حقائق دنیا کے سامنے رکھے ہیں، اور بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سفارتی وفد عالمی دورے پر ہے، اور دنیا نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی تعریف کی ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر علاقائی سالمیت اور قومی مفاد کی بات ہوگی تو ہم سب متحد ہیں، اور یہ بات ہم نے ثابت کی ہے۔