انمول پنکی کیس میں بریک تھرو، سابق پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج

انمول پنکی کیس میں بریک تھرو، سابق پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج

منشیات فروش انمول عرف پنکی سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیس کے ایک اہم کردار کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے انمول پنکی کے سابق شوہر اور ریٹائرڈ پولیس افسر رانا اکرم کو بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمہ یاسمین تبسم نامی خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سی سی پی او کی انکوائری میں ریٹائرڈ پولیس افسر رانا اکرم کو قصوروار قرار دیے جانے کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق جولائی 2024 میں رانا اکرم مبینہ طور پر 10 سے زائد اہلکاروں کے ہمراہ زبردستی مدعیہ کے گھر میں داخل ہوئے، جہاں ان کے شوہر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان گھر سے تقریباً 55 لاکھ روپے مالیت کے زیورات، ملکی و غیر ملکی کرنسی، دیگر قیمتی سامان اور ایک گاڑی بھی ساتھ لے گئے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدعیہ کے شوہر کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرا کے انہیں اپنے ساتھ لے جایا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ رانا اکرم ریٹائر ہو چکے ہیں، جبکہ مقدمے کے مختلف پہلوؤں پر مزید تفتیش جاری ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کے مقدمے کی تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات سامنے آئے تھے۔ کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی گئی تفتیشی رپورٹ کے مطابق انمول پنکی کے مزید سات قریبی ساتھیوں کی شناخت ہوئی، جنہیں پولیس نے مفرور قرار دیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کو رواں سال 12 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ اس کی نشاندہی پر تین مبینہ سہولت کاروں، ذیشان، سہیل اور سمیر، کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

نوٹ: خبر میں شامل الزامات ایف آئی آر اور پولیس کے مؤقف پر مبنی ہیں، جن کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین عدالت میں ہونے والی کارروائی کے بعد ہوگا۔