مریم نواز کاہنہ پہنچ گئیں‘جاں بحق ہر بچے کے لواحقین کو 20 ‘زخمیوں کو5لاکھ کے چیک دیئے

وزیر اعلیٰ کا متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت ‘ غمزدہ ماؤں کو گلے لگا کر دلاسہ دیا، سانحہ میں زخمی بچوں کی بہترین دیکھ بھال کا یقین دلایا‘ آپ کے بچوں کا غم میرا  غم ہے:مریم نواز
جیلوں میں  بڑے اصلاحاتی منصوبوں کی منظوری  دے دی‘  ہر اصلاح کا مقصد قیدیوں کی بہتری اور معاشرے میں ان کی مثبت واپسی کو یقینی بنانا ہے:وزیر اعلی 
 قواعد و ضوابط کا اطلاق صرف قانون شکن عناصر پر ہونا چاہیے،قانون پر عمل درآمد کے ساتھ انسانی وقار کا احترام بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے :  امن کمیٹی کے ارکان سے خطاب 
لاہور(سپیشل رپورٹر)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سانحہ کاہنہ میں جاں بحق بچوں کے دکھی والدین سے ملاقات کی اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہارکیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے متاثرہ والدین کو پرسادیا ،غمزدہ ماؤں کو گلے لگا کر دلاسہ دیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے دادرسی کیلئے سانحہ کاہنہ کے ہر جاں بحق بچے کے لیے 20 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ روپے کے چیکس دکھی خاندانوں کے سپرد کیے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا اور یقین دلایا کہ حکومت سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سانحہ میں زخمی بچوں کی بہترین دیکھ بھال کی ہدایت کی۔ متاثرہ خاندانوں کو دلاسہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ٹیوشن سینٹر میں جب ایک اینٹ گری تھی تو بچوں کو فوری طور پر چھٹی دے دینی چاہیے تھی۔ آپ کا دکھ اتنا بڑا ہے کہ میرے پاس لفظ ہی نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اللہ تعالی کی طرف سے آئے امتحان کو ٹال نہیں سکتی لیکن غفلت کرنے والوں کو ہرگز نہیں چھوڑوں گی۔  میں خود ایک ماں ہوں، اس لیے آپ کے درد اور احساس کو بخوبی سمجھتی ہوں۔ لفظ کم ہیں اورغم بہت بڑا ہے۔ دکھی ماؤں کے آنسوؤں کا مداوا کوئی رقم نہیں کر سکتی۔ ننھے پھول جیسے بچوں کا بچھڑجانا دلخراش ہے،دکھی مائوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ آپ کے بچوں کا غم میرا اپنا غم ہے۔دریں اثناء مریم نواز شریف نے پنجاب کی جیلوں کو صرف سزا گاہوں کے بجائے حقیقی اصلاح گاہوں میں تبدیل کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کرتے ہوئے متعدد اہم منصوبوں اور اقدامات کی منظوری دے دی۔وزیراعلی کی زیرِ صدارت جیل اصلاحات سے متعلق اعلی سطح کے اجلاس میں جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں، نئی جیلوں کی تعمیر، قیدیوں کی فلاح و بہبود، سیکیورٹی، صحت، تعلیم اور جدید سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں ننکانہ صاحب جیل کا ویڈیو جائزہ بھی پیش کیا گیا، جس کے بعد وزیراعلی نے اس منصوبے کے لئے  ایک ارب 30 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دیتے ہوئے ننکانہ صاحب اور سمندری جیلوں کو رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کر دیا۔وزیراعلی مریم نوازنے ہدایت کی کہ جیلوں میں قیدیوں کے بنیادی انسانی وقار، حقوق، صحت، تعلیم، بحالی اور اصلاح کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جیلوں کے نظام کو قریب سے دیکھ چکی ہیں، اس لیے ہر اصلاح کا مقصد قیدیوں کی بہتری اور معاشرے میں ان کی مثبت واپسی کو یقینی بنانا ہے۔علاوہ ازیں مریم نواز نے کہا ہے   قومی یکجہتی، امن اور شہری تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔قومی پیغامِ امن کمیٹی ملک میں امن، بین المسالک ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ پنجاب میں اقلیتوں کو مکمل تحفظ اور ان کے حقوق کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔امن کمیٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات پر ملنے والی پذیرائی ان کی حکومت کے لئے  اعزاز ہے اور گزشتہ اڑھائی برس کے دوران پنجاب نے متعدد اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو اعتماد ہے کہ حکومت ان کے حقوق اور تحفظ کے لیے مثر اقدامات کر رہی ہے