پنجاب حکومت ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے جاں بحق بچوں کے لواحقین کو 20،20 لاکھ روپے،زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ دے گی

 سانحہ کاہنہ : 14 بچے سپردخاک، لواحقین غم سے نڈھال،  ہر آنکھ اشکبار،فضا سوگوار
عبداللہ اور ارحم علی، دعا، ارتضی ، رمشا ، عبداللہ، ایمان فاطمہ اور عروج فاطمہ، ماہ نور اور تسبیح شہزاد کو نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا،لاشوں کی منتقلی کے لیے شہرِ خموشاں کی گاڑیاں بھی موقع پر موجود رہیں
 مقدمہ درج ،المناک سانحے کے باعث علاقے میں دکانیں اور مارکیٹیں بند ، ہر طرف سوگ، ، سکیورٹی کے سخت انتظامات ، رات بھر پولیس کی بھاری نفری  تعینات رہی،ضلعی انتظامیہ نے خصوصی انتظا مات کئے
لاہور( کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ) لاہور کے علاقے کاہنہ کے ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کو سپردخاک کر دیا گیا۔سانحہ کاہنہ کے بعد پورا علاقہ غم کی تصویر بنا ہوا ہے۔ فضا سوگوار ہے ہر آنکھ اشکبار  تھی۔ ننھے جنازے اٹھے تو ہر آنکھ اشکبار ہو گئی ۔پنجاب حکومت ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے جاں بحق بچوں کے لواحقین کو 20،20 لاکھ روپے،زخمیوں کو پانچ پانچ لاکھ  دے گی تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والے المناک سانحے میں جان کی بازی ہارنے والے معصوم بچوں گذشتہ روز  آہوں، سسکیوں اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ننھے تابوت جب قبرستان پہنچے تو فضا سوگوار ہو گئی اور ہر طرف غم کی خاموشی چھا گئی۔نمازِ جنازہ میں اہلِ علاقہ، عزیز و اقارب اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ غم سے نڈھال والدین اپنے جگر کے ٹکڑوں کو آخری بار دیکھ کر ضبط نہ کر سکے، جبکہ ماؤں کی آہ و بکا نے ہر موجود شخص کی آنکھیں نم کر دیں۔ ہر چہرہ ایک ہی سوال کر رہا تھا کہ آخر ان معصوم جانوں کا قصور کیا تھا؟معصوم بچوں کی قبریں ایک دوسرے کے قریب بنائی گئیں، جہاں رقت آمیز مناظر نے ہر دل کو ہلا کر رکھ دیا۔ جنازے میں شریک افراد نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم بچوں کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے، والدین کو صبرِ جمیل دے اور ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے ذمہ دار ادارے مؤثر اقدامات کریں۔ اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ صرف متاثرہ خاندانوں کا نہیں بلکہ پورے شہر کا دکھ بن چکا ہے۔ ننھی مسکراہٹیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں، مگر ان بچوں کی یادیں اپنے اہلِ خانہ کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔کاہنہ کے علاقے میں نجی ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے المناک واقعے کے سلسلے میں پولیس نے انفورسمنٹ آفیسر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔ مقدمہ غفلت اور لاپرواہی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں گھر کے تین بھائیوں عثمان، فیضان اور ریحان سمیت عمیر نامی مستری کو نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق ریحان کی اہلیہ عامیلہ نے رہائشی مکان کے ایک کمرے میں ٹیوشن سنٹر قائم کر رکھا تھا، جہاں واقعے کے وقت متعدد بچے زیرِ تعلیم تھے۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خستہ حال چھت کی مرمت کے دوران اس پر اضافی بوجھ پڑنے کے باعث چھت اچانک منہدم ہو گئی، جس سے کمرے میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے اس  افسوسناک حادثے میں 14 بچے اور بچیاں جاں بحق جبکہ 6 دیگر زخمی ہوئے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واقعے کے دوران ریحان کی اہلیہ عامیلہ بھی زخمی ہوئیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے  واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔