کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت اچانک منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں اب تک 5 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ 25 سے 30 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واقعہ جمعرات کی شام پیش آیا، جب عمارت زمین بوس ہوئی۔ اہل علاقہ اور متاثرہ افراد کے مطابق عمارت میں 6 خاندان رہائش پذیر تھے، اور ہر منزل پر 3 پورشن تھے۔ عمارت کے قریب واقع سات منزلہ دوسری عمارت کی سیڑھیاں بھی گر گئیں، تاہم ان میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
عینی شاہدین کی گفتگو:
عمارت کی مالکن کے بھتیجے نے بتایا کہ:"یہ عمارت ہمیشہ لوگوں سے بھری ہوئی ہوتی تھی۔ ہمارا خاندان چوتھی منزل پر رہتا تھا۔ میری خالہ کو تشویشناک حالت میں نکالا گیا، بیٹا انتقال کر چکا ہے، جبکہ تین رشتہ دار اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔"
امدادی سرگرمیاں:
ریسکیو ٹیمیں، فائر بریگیڈ، پولیس اور دیگر ادارے موقع پر پہنچ چکے ہیں اور ملبہ ہٹانے اور متاثرہ افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ امدادی ٹیموں کے مطابق متاثرین کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔
اعلیٰ سطح پر ردعمل:
صدر مملکت آصف علی زرداری اور
وزیراعظم شہباز شریف
نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا اور سندھ حکومت کو ہدایت دی کہ ریسکیو سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس بی سی اے (سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی) سے خستہ حال عمارتوں کی فوری فہرست طلب کر لی ہے، اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔
پس منظر:
یہ حادثہ کراچی میں خستہ حال اور غیر محفوظ عمارتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی سنگین نشاندہی کرتا ہے۔ شہری حلقوں اور متاثرین کے لواحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں ایسی عمارتوں کا فوری سروے کیا جائے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔