لیاری سانحہ، رہائشی عمارت گرنے کے معاملےمیں14 افراد قصور وار قرار

لیاری سانحہ، رہائشی عمارت گرنے کے معاملےمیں14 افراد قصور وار قرار

کراچی کے علاقے لیاری میں بفدادی کے مقام پر گرنے والی پانچ منزلہ رہائشی عمارت سے متعلق پولیس نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی ہے جس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے 6 ڈائریکٹرز، عمارت کے مالک اور دیگر متعلقہ افراد سمیت 14 افراد کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

مقدمہ درج اور عدالت میں رپورٹ جمع
پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کلثوم سہتو کی عدالت میں اطلاعی رپورٹ (preliminary report) جمع کروائی۔ رپورٹ کے مطابق مقدمہ سندھ لوکل گورنمنٹ ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

عمارت کی تفصیلات اور تباہی
رپورٹ کے مطابق یہ عمارت 1986 میں تعمیر کی گئی تھی، جو دو حصوں پر مشتمل گراؤنڈ پلس 5 منزلہ تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عمارت خستہ حال ہو چکی تھی اور اسے رہائش کے قابل قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔ تاہم ایس بی سی اے کی غفلت کے باعث ان حصوں میں اب بھی رہائش جاری تھی۔20 فلیٹس پر مشتمل ایک حصہ زمین بوس ہوا، جس کے نتیجے میں 27 افراد (مرد، خواتین، بچے) جاں بحق اور 4 افراد زخمی ہوئے۔

ایس بی سی اے کی مبینہ غفلت
اطلاعی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ SBCA افسران کو 2022 سے عمارت کی خستہ حالی کا علم تھا، مگر اس کے باوجود انہوں نے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا۔ افسران کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی ہی اس سانحے کا سبب بنی۔

نامزد افسران و افراد
تحقیقات میں جن 14 افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ان میں شامل ہیں:

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 6 موجودہ و سابق ڈائریکٹرز
عمارت کا مالک
کنٹریکٹر و ذمے دار اسٹاف
اگلے مراحل
پولیس کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے، جب کہ SBCA افسران سے جواب طلبی اور فوجداری کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

عوامی ردعمل
سانحے نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ شہریوں نے ناقص نگرانی، رشوت خوری اور قانون نافذ نہ ہونے پر احتجاج کیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے فوری انصاف اور معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔