وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز (ڈی ایچ کیو) اسپتال پاکپتن کا اچانک دورہ کیا اور وہاں صحت کی ناقص صورتحال، بدانتظامی اور غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
دورے کے دوران انہوں نے ڈپٹی کمشنر پاکپتن کو فوری طور پر چارج چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق اسپتال میں ادویات کی موجودگی کے باوجود فارمیسی مافیا سے گٹھ جوڑ کے باعث مریضوں کو باہر سے مہنگی دوا خریدنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ وزیراعلیٰ کو اس بارے میں شکایات موصول ہو چکی تھیں، جن کی خود تصدیق کی گئی۔ترجمان کے مطابق اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) اور دیگر متعلقہ حکام نے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی، جس پر وزیراعلیٰ نے شدید ردعمل دیا اور تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا۔علاوہ ازیں، مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ سے غیرقانونی طور پر 100 روپے پارکنگ فیس وصول کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئیں، جس پر وزیراعلیٰ نے فوری انکوائری کا حکم دے دیا۔
یہ دورہ اس افسوسناک پس منظر میں کیا گیا جب ڈی ایچ کیو اسپتال پاکپتن میں حالیہ دنوں میں 20 نومولود بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان اموات نے صوبے بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایم ایس اور سی ای او کو پہلے ہی گرفتار کرنے کے احکامات دے دیے تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ:"صحت کے شعبے میں کسی قسم کی غفلت یا کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔"انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے بھر کے اسپتالوں کی نگرانی سخت کی جائے گی اور غفلت برتنے والوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے گا۔