پاکپتن اسپتال میں 20 بچوں کی ہلاکت: وزیراعلیٰ مریم نواز کے حکم پر ایم ایس اور سی ای او گرفتار

پاکپتن اسپتال میں 20 بچوں کی ہلاکت: وزیراعلیٰ مریم نواز کے حکم پر ایم ایس اور سی ای او گرفتار

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاکپتن ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال میں مبینہ غفلت کے باعث 20 نومولود بچوں کی ہلاکت پر سخت ایکشن لیتے ہوئے اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

دونوں افسران کو آج ہی وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پولیس نے حراست میں لے لیا۔پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی وزیراعلیٰ کے اچانک دورۂ پاکپتن اسپتال کے دوران کی گئی، جہاں انہوں نے بچوں کی اموات پر برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ افسران سے فوری بازپرس کی۔ مریم نواز نے کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔یاد رہے کہ پاکپتن میں گزشتہ دنوں 20 بچوں کی پراسرار اموات کی خبریں سامنے آئی تھیں، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے فوری نوٹس لیا تھا اور محکمۂ صحت پنجاب اور کمشنر ساہیوال کو تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ:15 بچے نجی اسپتالوں میں پیدا ہوئے، مگر حالت بگڑنے پر انہیں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔5 بچوں کی ہلاکت غیر تربیت یافتہ دائیوں کے غیر محفوظ طریقۂ کار کے باعث ہوئی۔
اسپتال لائے گئے بیشتر بچوں کی مائیں ان کے ساتھ موجود نہیں تھیں، جس سے ان کی دیکھ بھال اور تشخیص میں تاخیر ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کو پیش کی گئی رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ کی غفلت، عدم نگرانی، اور عملے کی غیر پیشہ ورانہ کارکردگی کی نشاندہی کی گئی تھی، جس پر فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں گی اور جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ بچوں کے اہل خانہ سے فوری رابطہ کر کے انہیں ہر ممکن قانونی و مالی معاونت فراہم کی جائے۔