کراچی: شہرِ قائد کے قدیمی علاقے لی مارکیٹ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی۔
اس حادثے میں اب تک 5 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
واقعے کی تفصیلات:
عینی شاہدین اور ریسکیو ذرائع کے مطابق، عمارت مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہے۔ بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر میں 6 زخمیوں کو لایا گیا ہے، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ دیگر زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق عمارت میں تقریباً 20 فلیٹس موجود تھے، جن میں کئی خاندان آباد تھے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں، فائر بریگیڈ اور ایمبولینسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔اب تک 6 افراد کو زندہ حالت میں ملبے سے نکالا جا چکا ہے، تاہم ملبے تلے مزید افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو میں مشکلات:
ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ علاقے کی گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے بھاری مشینری کو موقع پر پہنچانے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے باوجود، کرینیں اور دیگر ضروری مشینیں طلب کر لی گئی ہیں تاکہ جلد از جلد ملبہ ہٹایا جا سکے۔
حکومتی ردعمل:
وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور ہدایت کی ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے اسپتالوں کو زخمیوں کے علاج کے لیے تمام سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
ابتدائی خدشات:
تاحال عمارت گرنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کی بنیادیں کمزور تھیں یا اس میں غیرقانونی تعمیرات کی گئی تھیں۔محکمہ تعمیرات اور بلدیاتی ادارے واقعے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔
اہل علاقہ میں خوف و ہراس:
حادثے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے، اور شہریوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہو گئی ہے۔ کئی افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چین نظر آئے۔ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے، اور ملبہ مکمل طور پر ہٹائے جانے کے بعد ہی حتمی جانی نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔