موجودہ حکومت آلو خریدے، اور کسانوں کے لیے سود معاف کریں اور قرضے دیں ، پی پی رہنماوں کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت سے آلو خریدنے، فوری زرعی پیکج اور کسانوں کے لئے سود معاف اور قرضے دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت آلو کا بحران ہے، کسان سے آلو 10 روپے کلو لیا جا رہا ہے۔ان خیالات کااظہار پیپلز پارٹی کے رہنمائو ں ندیم افضل چن اور چوہدری منظور نے اسلام آباد میںنیوز کانفرنس کے دوران کیا ۔چوہدری منظور نے کہا ہمارے حکمرانوں کو سادہ سی معیشت سمجھ نہیں آتی، کسان، مزدور، تنخواہ دار اور پنشنر اپنے پاس پیسے نہیں رکھتا، کسانوں کو زرعی پیکج کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا اس وقت بڑی سازش ہو رہی ہے، پاسکو، این ایف سی کو بند کر کے زرعی بینک کو پرائیویٹائز کیا جا رہا ہے، اس وقت آلو کا بحران ہے اور کسان سے آلو 10 روپے کلو لیا جا رہا ہے جب کہ فی ایکڑ آلو کی فصل پر ڈھائی لاکھ روپے خرچہ آتا ہے، اور کسان کی ٹرانسپورٹیشن میں اضافہ ہو گیا ہے، اس وقت زراعت کو سب سے بڑے پیکج کی ضرورت ہے۔چوہدری منظور نے کہا کسانوں کے پاس اگلی فصل کاشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، ہم 3 مطالبات رکھ رہے ہیں ایک تو فوری زرعی پیکج دیا جائے، دوم ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت آلو خریدے، تیسرا مطالبہ ہے کہ کسانوں کے لیے سود معاف کریں اور قرضے دیں۔پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں زراعت میں 1 ہزار ارب روپے لگائے، بینظیر بھٹو نے بھی اپنے دور میں سود معاف کر دیا تھا، اور بڑا زرعی پیکج دیا تھا، سڑکوں پر نکلنا آخری آپشن ہوگا، امید ہے بات وہاں تک نہیں جائے گی۔اس موقع پر ندیم افضل چن نے کہا کہ حکومت قومی اداروں کے خلاف گہری سازشیں کر رہی ہے، حکومت زرعی بینک کی نجکاری اور پاسکو کو ختم کرنے جا رہی ہے، حکومت عام آدمی کو سہولتوں کی بجائے مشکلات دے رہی ہے