پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے سفر کی لازمی شرط ہے‘ قوم کو جو مسئلہ درپیش ہے اتفاق و اتحاد سے اس کا مقابلہ کرلیں، امن قائم کرلیں پھر سیاست بھی ہوگی ‘ میدان بھی سجیں گے

تفرقے اور سیاست چھوڑیں آئیں ملکر دہشتگردں کا مقابلہ کریں شہبازشریف

قلات میں انتہائی افسوسناک واقعہ ہوا، پوری قوم اپنے شہداء  اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے،بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے دشمنوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہ ہونے دیں گے
بدقسمتی یہ ہے  قوم کے بہادر سپوت ماضی کی بعض فاش غلطیوں کا اپنے خون سے ازالہ کررہے ہیں:وزیراعظم ‘ سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ، قلات دہشتگردی واقعے میں زخمی جوانوں کی عیادت 
کوئٹہ (آئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قلات میں انتہائی افسوسناک واقعہ ہوا، پوری قوم اپنے شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے، یہ تفرقے اور سیاست کا نہیں دہشت گردوں سے مقابلے کا وقت ہے۔ تفصیل کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف  پیر کو  ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے جہاں انہوں نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا اور امن وامان کی صورتحال  سے متعلق اجلاس کی صدارت کی ۔ وزیر اعظم نے سی ایم ایچ کوئٹہ میں قلات و بلوچستان کے دیگر اضلاع میں دہشتگردوں سے بہادری سے لڑتے ہوئے زخمی ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی عیادت کی اور ان کے ملک کی خاطر قربانی کے جذبے اور وطن کی حفاظت کے غیر متزلزل عزم کو سراہا۔زخمی جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ سب قوم کے ہیروز ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو آپ اور قربانی کے جذبے سے سرشار آپ کے اہل خانہ پر فخر ہے، جب تک قوم کا تحفظ ایسے بہادر جوانوں کے سپرد ہے دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور کے ملک سے مکمل خاتمے کیلئے افواج پاکستان اور عوام شانہ بشانہ کھڑے ہیں، بلوچستان میں دہشت و شر کی فضا پھیلانے والے عناصر بلوچستان کی ترقی کے دشمن ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کے تحفظ کیلئے سکیورٹی فورسز شرپسند عناصر کے سد باب کیلئے دن رات مصروف عمل ہیں، بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے دشمنوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہ ہونے دیں گے۔ دریں اثناء کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قلات میں پرسوں انتہائی اندوہناک واقعہ ہوا، جس میں 18 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور 23 خوارج جہنم رسید ہوئے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی جو نئی لہر آئی ہے اس کے خاتمے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے جوانوں اور غازیوں کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں زخمیوں کی عیادت کرکے آیا ہوں، وہ انتہائی حوصلے میں تھے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی ملال نہیں ہے، اگر ہمارے جسم کا کوئی حصہ ناکارہ ہوا ہے یہ تو قوم کے عظیم تر مفاد کے لیے ہے اور اگر ہمیں اپنی جان کا نذرانہ بھی دینا پڑتا تو یہ کوئی بڑی قیمت نہیں تھی۔