28ارب ڈالر کی ترسیلات زر کا نیا ریکارڈ سمندر پار مقیم پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں:شہبازشریف
ترسیلات زر کا ریکارڈ سطح پر پہنچنا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی عکاسی ہے،مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے محنت کش سمندر پار پاکستانیوں پر فخر ہے ‘حکومت تمام تر سہولیات فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے: وزیر اعظم
کراچی‘اسلام آباد(آئی این پی )بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے رواں سال مارچ کے مہینے میں تاریخی مالیت کی ترسیلات وطن بھیج کر ریکارڈ قائم کر دیا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری اعدادوشمار کے مطابق کسی ایک ماہ میں 4 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی ترسیلات کا ریکارڈ قائم کیا گیا۔ مارچ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے 4.1 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں جو ایک ریکارڈ ہے۔مارچ 2024 کے مقابلے میں ترسیلات 37.3 فیصد جبکہ فروری 2025 سے 29.8 فیصد زائد ہیں۔رواں مالی سال جولائی تا مارچ مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 21 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے ترسیلات زر کا ریکارڈ سطح پر پہنچنا سمندر پار پاکستانیوں کے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی عکاسی ہے۔ سمندر پار پاکستانی بیرون ملک دن رات محنت اور لگن سے کام کرکے نہ صرف ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں بلکہ ترسیلات زر سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سمندر پار مقیم پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے محنت کش سمندر پار پاکستانیوں پر فخر ہے۔ حکومت پاکستان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو تمام تر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پر عزم ہے۔علاوہ ازیں شہباز شریف نے کہا پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والے اپنے سکھ بھائیوں کو بیساکھی کے پرمسرت موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،، دعا ہے بیساکھی ہر میدان میں خوشحالی، ملک کے کونے کونے میں ترقی لائے۔ یہ دن ناصرف فصلوں کے پکنے کا اعلان ہے بلکہ ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، یہ کسانوں کے لئے بڑی خوشی کا وقت ہے جب وہ اپنی محنت کا پھل حاصل کرتے ہیں، یہ دن امید، اتحاد اور تجدید کے پائیدار جذبے کی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ وہ دن ہے جو ہماری برادریوں کو متحد کرتا ہے اور ہماری قوم کی تشکیل کرتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ آیئے ہم بیساکھی کے جذبے سے متاثر ہو کر ایک روشن، جامع اور مضبوط کل کی تعمیر کے لئے مل کر ساتھ آگے بڑھیں، ساریاں نو وساکھی دیاں ودھایاں!۔