سوات خودکش حملہ: تحقیقات میں اہم پیش رفت، حملہ آور کا تعلق دیر سے نکلا

سوات خودکش حملہ: تحقیقات میں اہم پیش رفت، حملہ آور کا تعلق دیر سے نکلا

خیبرپختونخوا کے سیاحتی شہر سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ تحقیقاتی ٹیم نے بتایا ہے کہ حملہ آور کا تعلق ضلع دیر سے ہے۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق خودکش حملہ آور ماضی میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث رہا ہے اور اس کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔ حکام یہ بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا حملہ آور سرحد پار گیا تھا یا نہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور پیدل چل کر کبل تھانے تک پہنچا تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز ہونے والے خودکش دھماکے میں شہداء کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی ہے، جن میں 7 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں۔ واقعے کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق سیدو شریف اسپتال میں دھماکے کے 12 زخمی زیرِ علاج ہیں، جن میں 8 پولیس اہلکار اور 4 شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 شاہ فہد کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سوات شعیب منصور کی نگرانی میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں ریسکیو 1122 سوات کی 13 ایمبولینسز اور 45 سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق 15 سے زائد زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ امدادی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔

دوسری جانب خودکش حملے کا مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت تھانہ کبل کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق کبل چوک میں سہ پہر 4 بجے پاسون تنظیم کا احتجاج جاری تھا، جبکہ شام 6 بج کر 4 منٹ پر تھانہ کبل کے مرکزی دروازے پر دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی بڑی تعداد شہید اور زخمی ہوئی۔ایف آئی آر میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ واقعہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے کمانڈر مظفر اور اس کے ساتھی دہشت گردوں کی کارروائی ہو سکتی ہے، تاہم حتمی حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔