ویب ڈیسک: حکومت پاکستان نے قطر کے ساتھ مستقبل کی گیس سپلائی کے لیے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کی بنیادی وجوہات میں ایل این جی معاہدوں میں پرائس اوپننگ کلاز کا نفاذ اور ایل این جی کارگوز کا بین الاقوامی منڈیوں کی طرف موڑنا شامل ہیں۔
بحران کی وجوہات:
مارچ 2026 تک دو ایل این جی ٹرم معاہدوں کے تحت قیمتوں میں نظرثانی (پرائس اوپننگ کلاز) کا نفاذ متوقع ہے۔آر ایل این جی (ریگیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس) کا ملک میں موجودہ بہتات بحران مزید بڑھ گیا ہے۔بجلی کے شعبے کی جانب سے درآمد شدہ گیس کا معاہدوں کے مطابق استعمال نہ کرنا اور معاہدوں کی خلاف ورزی بھی اس بحران کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے:
پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق:"وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل علی پرویز ملک کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد رواں ماہ اگست کے آخر تک قطر کا اہم دورہ کرے گا۔"
مذاکرات کا مقصد:
قطر کے ساتھ مستقبل کی گیس سپلائی کو یقینی بنانا۔ایل این جی معاہدوں پر نظرثانی اور قیمتوں کا تعین۔آر ایل این جی کے بحران پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات طے کرنا۔