ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ تاجروں اور مارکیٹ کے کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر رہا ہے کیونکہ اس کا براہِ راست اثر خورونوش کی اشیاء کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر دالیں اور دیگر بنیادی غذائی اجناس کی قیمت میں فی کلو 2 سے 3 روپے کا اضافہ متوقع ہے، لیکن آنے والے دنوں میں اگر ڈیزل کی قیمتیں اسی سطح پر رہیں تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔پاکستان میں زیادہ تر دالیں اور دیگر غذائی اشیاء درآمد کی جاتی ہیں اور بندرگاہوں پر پہنچنے کے بعد انہیں مختلف شہروں جیسے حیدرآباد میں واشنگ اور پراسیسنگ کے لیے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں ٹرانسپورٹ کا بڑا کردار ہوتا ہے، اور ٹرانسپورٹ کے کرایے براہِ راست ڈیزل کی قیمت سے منسلک ہیں۔تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام فراہم کیا جائے تاکہ اشیائے خورونوش کی قیمتیں زیادہ نہ بڑھیں اور عام شہریوں کو ریلیف مل سکے۔
تاجروں نے واضح کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں دالیں، چاول، گندم اور دیگر بنیادی خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوگا۔اس حوالے سے مارکیٹ کے ماہرین اور تجزیہ کاروں نے بھی انتباہ جاری کیا ہے کہ ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی اثر ڈالیں گی، خاص طور پر ٹرانسپورٹ، کھاد، اور تجارتی مال برداری کے شعبے میں۔