ویب ڈیسک:پاکستان میں عوام کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگنے والا ہے، کیونکہ 16 جون 2025 سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر یا اس سے زائد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔یہ متوقع اضافہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے نتیجے میں کیا جا رہا ہے، جو اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملے کے بعد دیکھنے میں آیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جمعہ کے روز عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 4.60 ڈالر (6.63 فیصد) اضافے کے ساتھ 73.96 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جب کہ دورانِ ٹریڈنگ اس کی بلند ترین سطح 78.50 ڈالر بھی ریکارڈ کی گئی، جو کہ 27 جنوری 2025 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
جولائی میں قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع
ذرائع کے مطابق، یکم جولائی 2025 سے نئے مالی سال کا بجٹ نافذ ہونے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ حکومت کی جانب سے بجٹ میں 2.5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی اور دیگر محصولات عائد کیے جانے کا امکان ہے، جس کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
عوامی مشکلات میں اضافہ
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش، اور روزمرہ ضروریات کی دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بھی براہ راست متاثر کیا ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر جنم لینے کا خدشہ ہے۔
حکومت کی حکمت عملی؟
تاحال وزارتِ خزانہ یا اوگرا (OGRA) کی جانب سے کسی باضابطہ اعلان یا ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کیلئے سبسڈی دینا یا قیمتوں کو منجمد رکھنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔