ساندہ کے علاقے میں گھریلو تشدد کا ایک سنگین واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک خاتون اپنے شوہر کے طویل عرصے سے جاری تشدد کا شکار رہی۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کی شادی چار سال قبل ساندہ کے رہائشی آصف سے ہوئی، جو شادی کے پہلے دن سے ہی اس پر جسمانی تشدد کرتا رہا۔جمعہ کے روز بھی شوہر نے اسے ڈنڈوں، سوٹوں اور مکوں سے بری طرح مارا، جس کے نتیجے میں اس کی آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی اور بعد ازاں گھر سے نکال دیا گیا۔ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ شور سن کر اس کی بہن نے اسے اپنے گھر لے جایا، لیکن ملزم آصف اپنے دو بہنوئیوں کے ہمراہ وہاں بھی پہنچا اور مزید تشدد کیا۔خاتون نے الزام لگایا کہ اس نے مدد کے لیے ہیلپ لائن 15 پر کال کی، لیکن پولیس نے فوری کارروائی نہیں کی اور درخواست دینے کے باوجود کمپیوٹرائزڈ پرچی بھی فراہم نہیں کی گئی۔ملزم آصف اور اس کے بہنوئیوں کی جانب سے خاتون کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ متاثرہ خاتون نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے فوری تحفظ فراہم کیا جائے اور تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔یہ واقعہ ساندہ میں گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان اور خواتین کی سلامتی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔