سمن آباد کے علاقے میں ایک گھریلو جھگڑا خونی تصادم میں بدل گیا، جہاں شوہر فہد بٹ نے معمولی تکرار کے بعد اپنی بیوی سعدیہ بی بی پر چھریوں سے حملہ کر دیا۔ و
اقعے میں خاتون کو شدید زخمی کرنے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔ متاثرہ خاتون کو خون کی زیادہ مقدار ضائع ہونے کے باعث انتہائی تشویشناک حالت میں جناح ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں میڈیکل ٹیم نے فوری معائنہ مکمل کر لیا ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق، سعدیہ کے جسم پر گہرے زخموں کے باعث اس کی حالت اب بھی نازک ہے۔
پولیس کی کارروائی اور ملزم کی گرفتاری کی کوششیں
پولیس کے مطابق، ملزم فہد بٹ نے تنازعے کے فوری بعد فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ تاہم، اس کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ایس ایس پی مغربی کے ترجمان نے بتایا کہ "واردات کی تفتیش جاری ہے، اور ملزم کو جلد از جلد عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔" خاتون کے خاندان کی جانب سے پولیس میں درج کیے گئے بیان کے بعد مقدمہ دفعہ 324 (قتل کی کوشش) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
خاندان کا الزام: ماضی میں بھی سسرالیوں کی طرف سے تشدد
سعدیہ کے اہل خانہ نے پولیس اور میڈیا کے سامنے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "سعدیہ کو اس کے شوہر اور سسرال والوں کی طرف سے ماضی میں بارہا تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لیکن اس بار یہ تشدد جان لیوا حد تک بڑھ گیا۔" ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے پہلے بھی مقامی اتھارٹیز کو اطلاع دی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔" خاندان نے انصاف کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
معاشرتی سطح پر سوالات اور تشویش
یہ واقعہ گھریلو تشدد کے خلاف قانونی تحفظات اور سماجی بیداری کی کمی کو ایک بار پھر اجاگر کر گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ "عورتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں فوری اور سخت کارروائی کی جائے، نیز متاثرہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پالیسیاں مرتب کی جائیں۔" سعدیہ کا کیس اس سلسلے میں ایک اور المناک مثال بن گیا ہے جس پر معاشرے کے تمام طبقات کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔