وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم لیوی میں فی لیٹر 80 روپے کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج رات سے پٹرول کی نئی قیمت 378 روپے فی لیٹر مقرر کی جا رہی ہے۔
قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس سے عوام کیلئے نئے چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں، تاہم حکومت نے کوشش کی کہ مہنگائی کا بوجھ براہِ راست عوام پر نہ ڈالا جائے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران حکومت نے 129 ارب روپے خرچ کر کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام تک منتقل نہیں ہونے دیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل سواروں کو ایک لیٹر پٹرول پر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی جبکہ گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے 70 سے 80 ہزار روپے ماہانہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ مسافر بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ تک سبسڈی دی جائے گی جبکہ پاکستان ریلوے کی کسی بھی کلاس کے کرائے میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ چھوٹے کاشتکاروں کو 1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جائے گی جبکہ مال بردار گاڑیوں کو 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ اسی طرح چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار اور بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ تمام اعلانات گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر بھی لاگو ہوں گے۔اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت خطے میں جنگ بندی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور جب تک حالات بہتر نہیں ہوتے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ کے ارکان آئندہ چھ ماہ تک تنخواہ نہیں لیں گے۔