ویب ڈیسک: امریکی خفیہ ادارے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے سربراہ جنرل ٹموتھی ہاؤگ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ جنرل ہاؤگ کو ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے تک کام کرنے کے بعد برطرف کیا گیا ہے، تاہم حکام نے برطرفی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی۔جنرل ہاؤگ امریکی سائبر کمانڈ کے سربراہ بھی تھے، جو پینٹاگون کی سائبر وار فیئر باڈی ہے۔ "دی پوسٹ" کے مطابق، این ایس اے کی نائب سربراہ وینڈی نوبل کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے، اور انہیں پینٹاگون میں کسی دوسرے عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہے۔این ایس اے امریکہ کی سب سے بڑی سگنل انٹیلی جنس ایجنسی ہے، تاہم پینٹاگون نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔جنرل ٹموتھی ہاؤگ نے فروری 2024 میں اپنے عہدے کا آغاز کیا تھا اور وہ اس سے قبل سرکاری سائبر سیکیورٹی کے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں، جن میں کمانڈر ایلیٹ سائبر نیشنل مشن فورس کا عہدہ بھی شامل ہے۔
کانگریس کے ڈیموکریٹک رکن جم ہیمس نے جنرل ہاؤگ کی برطرفی پر اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ اس فیصلے سے بہت پریشان ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ وہ جنرل ہاؤگ کو ایک ایماندار اور واضح رہنما کے طور پر جانتے ہیں، اور ان کی برطرفی کی وجہ وہ خصوصیات ہو سکتی ہیں جو اس انتظامیہ کو پسند نہیں آئیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلح افواج کی قیادت میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے فروری میں جنرل چارلس براؤن کو برطرف کر دیا تھا، تاہم اس کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔
امریکی سائبر کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈر ولیم جے ہارٹ مین اور این ایس اے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیلا تھامس کو قائم مقام این ایس اے سربراہ اور نائب مقرر کیا گیا ہے۔