جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے مارشل لا کے نفاذ پر صدر یون سک یول کو عہدے سے ہٹا دیا

جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے مارشل لا کے نفاذ پر صدر یون سک یول کو عہدے سے ہٹا دیا

جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے متفقہ طور پر سابق صدر یون سک یول کے خلاف مواخذے کی توثیق کر دی اور انہیں عہدے سے ہٹا دیا۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یون سک یول کی جانب سے مارشل لا کے اعلان اور فوج کو پارلیمنٹ بھیجنے کی کارروائیاں آئین کی خلاف ورزی تھیں اور جمہوریت کے لیے خطرہ ثابت ہوئیں۔آئینی عدالت کا کہنا تھا کہ یون سک یول نے فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اس فیصلے کے بعد جنوبی کوریا میں 60 دن کے اندر نیا صدارتی انتخاب کرایا جائے گا۔

یاد رہے کہ 3 دسمبر 2024 کو صدر یون سک یول نے مختصر مارشل لا نافذ کیا تھا، جس کے خلاف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔ پہلی تحریک ناکام ہونے کے بعد اپوزیشن اتحاد نے دوسری بار مواخذے کی تحریک پیش کی، جسے منظور کر لیا گیا اور صدر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔