وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے معاون خصوصی مشال یوسفزئی کو عہدے سے ہٹا دیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے معاون خصوصی مشال یوسفزئی کو عہدے سے ہٹا دیا

خیبرپختونخوا حکومت نے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی مشال یوسفزئی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

 وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے مشال یوسفزئی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی تصدیق کی، اور مشال نے خود بھی اس خبر کی توثیق کی ہے۔

عہدے سے برطرفی کی تفصیلات
مشال یوسفزئی کو رواں سال ستمبر میں بھی مشیر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا، تاہم تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہدایت پر انہیں دوبارہ کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔حالیہ برطرفی کے پیچھے وجوہات کی وضاحت نہیں کی گئی، تاہم ماضی میں مشال یوسفزئی تنازعات کا شکار رہی ہیں۔
پس منظر اور الزامات
اپریل 2024 میں مشال یوسفزئی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے محکمہ سماجی بہبود اور زکوٰۃ و عشر کی کفایت شعاری پالیسی کے برخلاف اپنے اور سیکرٹری کے لیے گاڑی خریدنے کی اجازت طلب کی تھی۔یہ معاملہ حکومتی اخراجات میں کفایت شعاری کی پالیسی کے برعکس ہونے کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا تھا۔
دیگر تعلقات
مشال یوسفزئی نہ صرف معاون خصوصی کے طور پر کام کر رہی تھیں بلکہ وہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ترجمان بھی رہ چکی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا نام سیاسی حلقوں میں کافی اہمیت رکھتا ہے۔
نتائج اور اثرات
مشال یوسفزئی کی برطرفی خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں مزید تنازعات اور قیاس آرائیوں کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر عمران خان اور ان کے قریبی حلقے کے فیصلوں کے تناظر میں۔