سپریم کورٹ نے سنگین غفلت پر ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) کو عہدے سے ہٹا دیا

سپریم کورٹ نے سنگین غفلت پر ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) کو عہدے سے ہٹا دیا

سپریم کورٹ میں بینچز اختیارات کیس کی سماعت نہ ہونے پر ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، ان کی خدمات کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، نذر عباس کو تاحکم ثانی فوری طور پر رجسٹرار آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس اقدام کے بعد سپریم کورٹ نے بتایا کہ بینچز کے اختیارات سے متعلق کیس کو آئینی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کرنے کی غلطی ہوئی، جس کی وجہ سے ادارے اور فریقین کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔ کمیٹی نے اس غلطی کو سنگین قرار دیا اور فیصلہ کیا کہ آئندہ تمام آئینی مقدمات آئینی بینچ کمیٹی کے سامنے ہی پیش کیے جائیں گے۔اسی دوران، چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو زیر التوا مقدمات کی جانچ پڑتال کے لیے مزید وسائل مختص کرنے کی ہدایت کی تاکہ قانونی برادری کو پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

اس معاملے پر سپریم کورٹ کے جسٹس منصور، جسٹس عائشہ اور جسٹس عقیل عباسی نے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا جس میں 16 جنوری کو بینچ میں شامل جسٹس عقیل عباسی کو کیس کی سماعت نہ ہونے کی شکایت کی گئی تھی۔ جسٹس منصور نے معاملے کو توہین عدالت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جوڈیشل آرڈر کی عدم تعمیل کے نتیجے میں کیس کو مقرر نہ کرنا قابل اعتراض ہے۔