کراچی: 27 ہزار والدین نے بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے انکار کیا، وفاقی وزیر صحت

کراچی: 27 ہزار والدین نے بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے انکار کیا، وفاقی وزیر صحت

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ شہر میں 27 ہزار والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر رہے ہیں۔

بلدیہ ٹاؤن میں انسداد پولیو مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں پولیو کے انکاری کیسز کی بڑھتی تعداد پر وزیر اعظم ہر میٹنگ میں مجھ سے سوال کرتے ہیں۔وفاقی وزیر صحت کے مطابق، انکاری کیسز میں سے 40 فیصد ضلع شرقی کے گجرو، بلدیہ اور اتحاد ٹاؤن سے رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ شہر کے تمام اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی ایک بڑا خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں صرف افغانستان اور پاکستان میں پولیو وائرس موجود ہے، اور پاکستان میں رواں سال اب تک 24 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 16 کیسز خیبر پختونخوا میں سامنے آئے ہیں۔مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ملک کے 127 میں سے 78 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس موجود ہے، اور اگر انسداد پولیو مہم نہ چلائی جاتی تو پاکستان میں 24 ہزار بچے معذور ہو سکتے تھے، لیکن مہم کی وجہ سے یہ تعداد صرف 24 تک محدود رہی۔

وزیر صحت نے کہا کہ پولیو کے قطرے ہی اس بیماری کا واحد علاج اور بچاؤ ہیں، لیکن منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ سازش یا نسل کشی کا ہتھیار ہیں، حالانکہ دنیا کے تمام ممالک میں یہ قطرے دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے والدین کو سمجھایا کہ انسداد پولیو مہم سیاست یا ووٹ لینے دینے کی تقریب نہیں بلکہ تمام بچوں کو مستقل معذوری سے بچانے کی کوشش ہے۔انہوں نے والدین کو متنبہ کیا کہ اگر وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلاتے تو دنیا اور آخرت میں اس کے ذمہ دار خود ہوں گے۔